حدیث نمبر: 2371
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ يُقَالُ لَهُ : سُلَيْمٌ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ يَأْتِينَا بَعْدَ مَا نَنَامُ وَنَكُونُ فِي أَعْمَالِنَا بِالنَّهَارِ فَيُنَادِي بِالصَّلَاةَ ، فَنَخْرُجُ إِلَيْهِ فَيُطَوِّلُ عَلَيْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ لَا تَكُنْ فَتَّانًا، إِمَّا أَنْ تُصَلِّيَ مَعِي وَإِمَّا أَنْ تُخَفِّفَ عَلَى قَوْمِكَ " ، ثُمَّ قَالَ : " يَا سُلَيْمُ مَاذَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ؟ " قَالَ : إِنِّي أَسْأَلُ اللَّهَ الْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِهِ مِنَ النَّارِ ، وَاللَّهِ مَا أُحْسِنُ دَنْدَنَتَكَ وَلَا دَنْدَنَةَ مُعَاذٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَهَلْ تَعْتَبِرُ دَنْدَنَتِي وَدَنْدَنَةَ مُعَاذٍ إِلَّا أَنْ نَسْأَلَ اللَّهَ الْجَنَّةَ وَنَعُوذَ بِهِ مِنَ النَّارِ ؟ " قَالَ سُلَيْمٌ : سَتَرَوْنَ غَدًا إِذَا الْتَقَى الْقَوْمُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، قَالَ : وَالنَّاسُ يَتَجَهَّزُونَ إِلَى أُحُدٍ فَخَرَجَ فَكَانَ فِي الشُّهَدَاءِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَمُعَاذُ بْنُ رِفَاعَةَ لَمْ يُدْرِكِ الرَّجُلَ الَّذِي مِنْ بَنِي سَلَمَةَ ; لِأَنَّهُ اسْتُشْهِدَ بِأُحُدٍ وَمُعَاذٌ تَابِعِيٌّ وَاللَّهُ أَعْلَمُ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ. وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي سَلَمَةَ . ¤
محمد محی الدین

معاذ بن رفاعہ ، بنو سلمہ سے تعلق رکھنے والے سلیم نامی ایک صاحب کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہمارے پاس اس وقت آتے ہیں جب ہم سو چکے ہوتے ہیں کیونکہ ہم نے دن کے وقت کام کاج کرنا ہوتا ہے پھر یہ نماز کے لئے اذان دیتے ہیں پھر ہم نکل کر ان کی طرف جاتے ہیں تو یہ ہمیں لمبی نماز پڑھاتے ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے معاذ بن جبل ! تم فتنے کا شکار کرنے والے نہ بننا ، یا تو تم میری اقتداء میں نماز ادا کر لیا کرو ، یا یہ ہے کہ اپنی قوم کو نماز پڑھاتے ہوئے مختصر نماز پڑھاؤ پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اسے سلیم تمہیں کتنا قرآن آتا ہے انہوں نے عرض کی : میں اللہ تعالیٰ سے جنت کی دعا مانگتا ہوں ، اور جہنم سے اس کی پناہ مانگتا ہوں اللہ کی قسم میں آپ کی طرح اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی طرح عمدہ طریقے سے دعا نہیں کر سکتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں اور معاذ بھی جو دعا کرتے ہیں وہ بھی یہی ہے کہ ہم اللہ تعالی سے جنت کی دعا مانگتے ہیں ، اور جہنم سے پناہ مانگتے ہیں تو سیدنا سلیم رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ لوگ کل دیکھیں گے کہ جب دشمن کا سامنا ہو گا ، تو اگر اللہ نے چاہا تو پھر چیز سامنے آ جائے گی راوی بیان کرتے ہیں : ان دنوں لوگ غزوہ اُحد کی تیاری کر رہے تھے انہوں نے اس جنگ میں حصہ لیا اور شہید ہونے والوں میں شامل ہوئے
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے معاذ بن رفاعہ نامی راوی نے اس شخص کا زمانہ نہیں پایا جس کا تعلق بنو سلمہ سے ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ صحابی غزوہ اُحد کے موقع پر شہید ہو گئے تھے ، اور معاذ بن رفاعہ تابعی ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے امام أحمد کے رجال ” ثقہ “ ہیں امام طبرانی نے اسے معجم کبیر میں معاذ بن رفاعہ کے حوالے سے نقل کیا ہے ۔ کہ بنو سلمہ سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے یہ بات بیان کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2371
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع ورجالہ ثقات