مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ مَنْ أَمَّ النَّاسَ فَلْيُخَفِّفْ . باب: جو شخص لوگوں کی امامت کرے اسے مختصر نماز پڑھانی چاہیے
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يَؤُمُّ قَوْمَهُ فَدَخَلَ حَرَامٌ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَسْقِيَ نَخْلَةً ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ لِيُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ ، فَلَمَّا رَأَى مُعَاذًا طَوَّلَ تَجَوَّزَ فِي صَلَاتِهِ وَلَحِقَ بِنَخْلِهِ يَسْقِيهِ ، فَلَمَّا قَضَى مُعَاذٌ الصَّلَاةَ قِيلَ لَهُ : إِنَّ حَرَامًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَلَمَّا رَآكَ طَوَّلْتَ تَجَوَّزَ فِي صَلَاتِهِ وَلَحِقَ بِنَخْلِهِ يَسْقِيهِ فَقَالَ : إِنَّهُ مُنَافِقٌ ، أَفَعَجِلَ عَنْ صَلَاتِهِ مِنْ أَجْلِ سَقْيِ نَخْلَةٍ ! قَالَ : فَجَاءَ حَرَامٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَاذٌ عِنْدَهُ فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أَسْقِيَ نَخْلًا لِي فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ لِأُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ فَلَمَّا طَوَّلَ تَجَوَّزْتُ وَلَحِقْتُ بِنَخْلِي أَسْقِيهِ فَزَعَمَ أَنِّي مُنَافِقٌ فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى مُعَاذٍ فَقَالَ : ¤ " أَفَتَّانٌ أَنْتَ ، أَنْتَ لَا تُطَوِّلْ بِهِمُ ، اقْرَأْ بِسَبِّحِّ اسْمَ رَبِّكَ ، وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَنَحْوِهِمَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے افراد کی امامت کر رہے تھے اسی دوران حرام نامی ایک صاحب مسجد میں داخل ہوئے ان کا ارادہ یہ تھا کہ وہ اپنی کھجوروں کو پانی دیں گے وہ مسجد میں داخل ہوئے تاکہ لوگوں کے ساتھ نماز ادا کر لیں جب انہوں نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ نماز کو طول دے رہے ہیں تو انہوں نے مختصر نماز ادا کی اور اپنی کھجوروں کو پانی دینے چلے گئے جب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز مکمل کی تو انہیں یہ بتایا گیا کہ سیدنا حرام رضی اللہ عنہ مسجد میں آئے تھے جب انہوں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے نماز کو طول دیا ہے ، تو انہوں نے مختصر نماز ادا کی اور اپنے کھجوروں کے باغ میں پانی دینے چلے گئے تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ منافق ہے کیا اس نے کھجوروں کو پانی دینے کی خاطر نماز میں جلدی کی تھی ؟ راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا حرام رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ۔ سیدنا حرام رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں اپنے کھجوروں کے باغ کو پانی دوں گا میں مسجد میں داخل ہوا تاکہ لوگوں کے ساتھ نماز ادا کر لوں جب انہوں نے نماز کو طول دیا تو میں نے مختصر نماز ادا کی اور اپنے کھجوروں کے باغ میں چلا گیا تاکہ وہاں پانی دوں ان کا یہ کہنا ہے کہ میں منافق ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : کیا تم آزمائش کا شکار کرتے ہو ؟ تم ان کو نماز پڑھاتے ہوئے طویل نماز نہ پڑھاؤ تم سورہ الاعلیٰ سورہ والشمس اور اس جیسی دیگر سورتوں کی تلاوت کیا کرو !
یہ روایت امام أحمد اور امام بزرا نے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔