حدیث نمبر: 234
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : أُسْرِيَ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ ، ثُمَّ جَاءَ مِنْ لَيْلَتِهِ ، فَحَدَّثَهُمْ بِمَسِيرِهِ وَبِعَلَامَةِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَبِعِيرِهِمْ ، فَقَالَ نَاسٌ - قَالَ حَسَنٌ - : نَحْنُ نُصَدِّقُ مُحَمَّدًا بِمَا يَقُولُ ، فَارْتَدُّوا كُفَّارًا ، فَضَرَبَ اللَّهُ أَعْنَاقَهُمْ مَعَ أَبِي جَهْلٍ ، وَقَالَ أَبُو جَهْلٍ : يُخَوِّفُنَا مُحَمَّدٌ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ ، هَاتُوا تَمْرًا وَزُبْدًا فَتَزَقَّمُوا . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ هِلَالَ بْنَ خَبَّابٍ قَالَ يَحْيَى الْقَطَّانُ : إِنَّهُ تَغَيَّرَ قَبْلَ مَوْتِهِ ، وَقَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ : لَمْ يَتَغَيَّرْ وَلَمْ يَخْتَلِطْ ، ثِقَةٌ مَأْمُونٌ ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَزَادَ : قَالَ : وَرَأَى الدَّجَّالَ فِي صُورَتِهِ رُؤْيَا عَيْنٍ ، لَيْسَ رُؤْيَا مَنَامٍ ، وَعِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ ، وَإِبْرَاهِيمَ . قَالَ : فَسُئِلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الدَّجَّالِ ، فَقَالَ : " رَأَيْتُهُ فَيْلَمَانِيًّا ، أَقْمَرَ ، هِجَانًا ، إِحْدَى عَيْنَيْهِ قَائِمَةٌ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ ، كَأَنَّ شَعْرَهُ أَغْصَانُ شَجَرَةٍ ، وَرَأَيْتُ عِيسَى شَابًّا أَبْيَضَ ، جَعْدَ الرَّأْسِ ، حَدِيدَ الْبَصَرِ ، مُبَطَّنَ الْخَلْقِ ، وَرَأَيْتُ مُوسَى أَسْحَمَ ، آدَمَ ، كَثِيرَ الشَّعْرِ ، شَدِيدَ الْخَلْقِ ، وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ ، فَلَا أَنْظُرُ إِلَى إِرْبٍ مِنْ آرَابِهِ إِلَّا نَظَرْتُ إِلَيْهِ كَأَنَّهُ صَاحِبُكُمْ . قَالَ : وَقَالَ لِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ : سَلِّمْ عَلَى أَبِيكَ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ " . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے وقت بیت المقدس تک لے جایا گیا ، اور پھر اسی رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس بھی تشریف لے آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اپنے تشریف لے جانے کے بارے میں اور انہیں بیت المقدس کی نشانیوں اور اُن لوگوں کے اونٹوں کے بارے میں بتایا ، تو کچھ لوگوں نے کہا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو کہہ رہے ہیں ، ہم اُس کے حوالے سے اُن کی تصدیق کرتے ہیں ، لیکن پھر اُس کے بعد وہ لوگ مرتد ہو کر کافر ہو گئے ، تو اللہ تعالیٰ نے اُن کی گردنیں ابوجہل کے ساتھ ملا دیں ابوجہل نے کہا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس زقوم کے درخت سے ڈراتے ہیں ، تم لوگ کھجور اور پنیر لاؤ اور ان کو چیر دو ! “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اس کے بعد راوی نے پوری حدیث روایت کی ہے یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، صرف ہلال بن خباب کا معاملہ مختلف ہے ، یحیی القطان کہتے ہیں : مرنے سے پہلے یہ تغیر کا شکار ہو گیا تھا ، یحیی بن معین کہتے ہیں : یہ نہ تو متغیر ہوا تھا اور نہ ہی اختلاط کا شکار ہوا تھا ، یہ ثقہ اور مامون ہے ۔
یہی روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس میں یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ” سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کی اصل شکل و صورت دیکھی اور یہ دیکھنا ؟ آنکھ کے ذریعے تھا خواب میں دیکھنا نہیں تھا ، اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو بھی دیکھا ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں سوال کیا گیا : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے اُسے دیکھا کہ وہ بھاری بھرکم صاف رنگ کا مالک تھا ، اُس کی ایک آنکھ موجود تھی جو چمکدار ستارے کی مانند تھی اور اس کے بال درخت کی ٹہنیوں کی مانند تھے ، میں نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ گوری رنگت کے نوجوان تھے ، اُن کے بال ہلکے سے گھنگریالے تھے ، نگاہ تیز تھی ، جس مضبوط تھا اور میں نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ گندمی رنگت کے مالک تھے ، بال بہت زیادہ تھے اور جسم مضبوط تھا ، میں نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو بھی دیکھا ، میں نے اُن کے جسم کے جس حصے پر بھی نظر ڈالی ، تو یوں لگا جیسے وہ تمہارے آقا ( یعنی خود نبی اکرم ) ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : جبرائیل علیہ السلام نے مجھ سے کہا: آپ اپنے جد امجد ( سیدنا ابراہیم علیہ السلام ) کو سلام کریں ، تو میں نے انہیں سلام کیا “ ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 234
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام ابو يعلي فى مسنده 2720 ورده المؤلف فى زوائد المسند 111»