مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْإِسْرَاءِ . باب: واقعہ معراج کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي وَضَعْتُ قَدَمَيَّ حَيْثُ تُوضَعُ أَقْدَامُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ ، فَعُرِضَ عَلِيَّ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ ، وَعُرِضَ عَلِيَّ مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا رَجُلٌ ضَرْبٌ مِنَ الرِّجَالِ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ ، وَعُرِضَ عَلِيَّ إِبْرَاهِيمُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا صَاحِبُكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَيَحْيَى وَابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ وَغَيْرُهُ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جس رات مجھے معراج کروائی گئی ، میں نے دیکھا کہ میں نے بیت المقدس میں اپنے پاؤں وہیں رکھے ، جہاں انبیاء کرام علیہم السلام کے قدم رکھے جاتے تھے ، میرے سامنے سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام آئے ، تو لوگوں میں ان کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت عروہ بن مسعود رکھتا ہے ، میرے سامنے سیدنا موسیٰ علیہ السلام آئے ، تو ان کا حلیہ ایسا تھا کہ وہ شنوہ قبیلے کے فرد محسوس ہوتے تھے ، میرے سامنے سیدنا ابراہیم علیہ السلام آئے ، تو لوگوں میں اُن کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت تمہارے آقا ( یعنی نبی اکرم ) رکھتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ابوسلمہ ہے ، امام أحمد ، یحیی بن معین اور ابن حبان نے اس کو ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ علی بن مدینی اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔