حدیث نمبر: 229
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَمَّا كَانَ لَيْلَةُ أُسْرِيَ بِي وَأَصْبَحْتُ بِمَكَّةَ فَظَعْتُ بِأَمْرِي ، وَعَرَفْتُ أَنَّ النَّاسَ مُكَذِّبِيَّ ، فَقَعَدْتُ مُعْتَزِلًا حَزِينًا " . فَمَرَّ بِهِ عَدُوُّ اللَّهِ أَبُو جَهْلٍ ، فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُ كَالْمُسْتَهْزِئِ : هَلْ كَانَ مِنْ شَيْءٍ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نَعَمْ " قَالَ : وَمَا هُوَ ؟ قَالَ : " إِنِّي أُسْرِيَ بِي اللَّيْلَةَ " . قَالَ : إِلَى أَيْنَ ؟ قَالَ : " إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ " . قَالَ : ثُمَّ أَصْبَحْتَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْنَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ " فَلَمْ يُرِهِ أَنَّهُ يُكَذِّبُهُ مَخَافَةَ أَنْ يَجْحَدَهُ الْحَدِيثَ إِنْ دَعَا قَوْمَهُ إِلَيْهِ . قَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ دَعَوْتُ قَوْمَكَ أَتُحَدِّثُهُمْ مَا حَدَّثْتَنِي ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : هَيَّا مَعْشَرَ بَنِي كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ . قَالَ : فَانْتَقَضَتْ إِلَيْهِ الْمَجَالِسُ ، وَجَاءُوا حَتَّى جَلَسُوا إِلَيْهِمَا . قَالَ : حَدِّثْ قَوْمَكَ بِمَا حَدَّثْتَنِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِّي أُسْرِيَ بِي اللَّيْلَةَ " . قَالُوا : إِلَى أَيْنَ ؟ قَالَ : " إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ " قَالُوا : ثُمَّ أَصْبَحْتَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْنَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : فَمِنْ بَيْنِ مُصَفِّقٍ ، وَمِنْ بَيْنِ وَاضِعٍ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ مُتَعَجِّبًا لِلْكَذِبِ زَعَمَ . قَالُوا : وَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَنْعَتَ لَنَا الْمَسْجِدَ ؟ - وَفِي الْقَوْمِ مَنْ قَدْ سَافَرَ إِلَى ذَلِكَ الْبَلَدِ وَرَأَى الْمَسْجِدَ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَذَهَبْتُ أَنْعَتُ ، فَمَا زِلْتُ أَنْعَتُ حَتَّى الْتَبَسَ عَلَيَّ بَعْضُ النَّعْتِ " قَالَ : " فَجِيءَ بِالْمَسْجِدِ وَأَنَا أَنْظُرُ حَتَّى وُضِعَ دُونَ دَارِ عُقَيْلٍ - أَوْ عِقَالٍ - فَنَعَتُّهُ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ . قَالَ : وَكَانَ مَعَ هَذَا نَعْتٌ لَمْ أَحْفَظْهُ " قَالَ : فَقَالَ الْقَوْمُ : أَمَّا النَّعْتُ فَوَاللَّهِ لَقَدْ أَصَابَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب مجھے رات کے وقت سیر کروائی گئی اور اگلے دن میں مکہ میں موجود تھا ، تو میں اپنے معاملے کے بارے میں پریشانی کا شکار ہوا ، اور مجھے اندازہ ہو گیا کہ لوگ مجھے جھٹلائیں گے ، میں الگ تھلگ ہو کر پریشان بیٹھ گیا ، اللہ تعالیٰ کا دشمن ابوجہل ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا ، تو وہ آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا ، اس نے مذاق اڑانے کے انداز میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : کیا کچھ ہوا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! اُس نے دریافت کیا : وہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : گزشتہ رات مجھے سیر کروائی گئی ، اس نے دریافت کیا : کہاں تک ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیت المقدس تک ، اُس نے دریافت کیا : اور پھر ( اب ) آپ ہمارے درمیان بھی موجود ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ ظاہر نہیں کیا کہ وہ آپ کی بات کو جھٹلا رہا ہے ، اسے یہ اندیشہ ہوا کہ اگر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بلا کر لایا ، تو کہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کا انکار نہ کر دیں ، اس نے دریافت کیا : اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ اگر میں آپ کی قوم کو بلا کر لاؤں ، تو جو چیز آپ نے مجھے بیان کی ہے ، وہ آپ اُن کے سامنے بھی بیان کر دیں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! اس نے کہا: اے بنو کعب بن لوی ! ادھر آؤ ! تو مختلف محافل میں بیٹھے ہوئے لوگ اُس کی طرف آئے ، وہ لوگ آئے اور ان دونوں کے پاس بیٹھ گئے ، تو ابوجہل نے کہا: آپ نے جو بات مجھے بیان کی ہے ، وہ اپنی قوم کو بھی بیان کر دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : گزشتہ رات مجھے سیر کروائی گئی ، اُن لوگوں نے دریافت کیا : کہاں تک ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیت المقدس تک ، انہوں نے کہا: پھر آپ صبح کے وقت ( یعنی اب ) ہمارے درمیان بھی موجود ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! تو ان میں سے کسی نے تالی بجائی ، کسی نے حیرانگی کا اظہار کیا اور اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھ لیا ، ان کا یہ گمان تھا کہ یہ غلط بیانی ہے ، انہوں نے کہا: کیا آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ اس مسجد کا نقشہ ہمارے سامنے بیان کریں ؟ اُن لوگوں میں سے کچھ افراد نے اس شہر تک کا سفر کیا ہوا تھا اور وہ مسجد بھی دیکھی ہوئی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں : میں نے اُس کا نقشہ بیان کرنا شروع کیا ، تو اس کو بیان کرنے کے دوران مجھے التباس ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو وہ مسجد لائی گئی اور میں یہ دیکھ رہا تھا ، یہاں تک کہ اس مسجد کو دارعقیل کے پچھلی طرف رکھ دیا گیا ۔ راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : دار عقال ۔ تو میں نے اُس مسجد کو دیکھ کر اُس کا نقشہ بیان کرنا شروع کر دیا ۔
راوی بیان کرتے ہیں : اس روایت میں اس ( مسجد ) کے نقشے کے الفاظ بھی تھے ، لیکن وہ مجھے یاد نہیں رہے ہیں ، راوی بیان کرتے ہیں : تو اُن لوگوں نے کہا: جہاں تک نقشے کی بات ہے ، تو اللہ کی قسم ! وہ انہوں نے صحیح بیان کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اسے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کیا ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
راوی بیان کرتے ہیں : اس روایت میں اس ( مسجد ) کے نقشے کے الفاظ بھی تھے ، لیکن وہ مجھے یاد نہیں رہے ہیں ، راوی بیان کرتے ہیں : تو اُن لوگوں نے کہا: جہاں تک نقشے کی بات ہے ، تو اللہ کی قسم ! وہ انہوں نے صحیح بیان کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اسے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کیا ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 230
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ أُسْرِيَ بِي أَتَيْتُ عَلَى رَائِحَةٍ طَيِّبَةٍ ، فَقُلْتُ : يَا جِبْرِيلُ ، مَا هَذِهِ الرَّائِحَةُ الطَّيِّبَةُ ؟ قَالَ : هَذِهِ رَائِحَةُ مَاشِطَةِ ابْنَةِ فِرْعَوْنَ وَأَوْلَادِهَا . قُلْتُ : وَمَا شَأْنُهَا ؟ قَالَ : بَيْنَا هِيَ تُمَشِّطُ ابْنَةَ فِرْعَوْنَ ذَاتَ يَوْمٍ إِذْ سَقَطَ الْمِدْرَى مِنْ يَدِهَا ، فَقَالَتْ : بِسْمِ اللَّهِ ، فَقَالَتْ لَهَا ابْنَةُ فِرْعَوْنَ : أَبِي ؟ قَالَتْ : لَا ، وَلَكِنْ رَبِّي وَرَبُّ أَبِيكِ اللَّهُ . قَالَتْ : أُخْبِرُهُ بِذَا ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، فَأَخْبَرَتْهُ فَدَعَاهَا ، فَقَالَ : يَا فُلَانَةُ ، وَإِنَّ لَكِ رَبًّا غَيْرِي ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُ . وَأَمَرَ بِنُقْرَةٍ مِنْ نُحَاسٍ فَأُحْمِيَتْ ، ثُمَّ أَمَرَ أَنْ تُلْقَى هِيَ وَأَوْلَادُهَا فِيهَا . قَالَتْ لَهُ : إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً . قَالَ : وَمَا حَاجَتُكِ ؟ قَالَتْ : أُحِبُّ أَنْ تَجْمَعَ عِظَامِي وَعِظَامَ أَوْلَادِي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ فَتَدْفِنَنَا جَمِيعًا . قَالَ : ذَلِكَ عَلَيْنَا مِنَ الْحَقِّ . قَالَ : فَأَمَرَ بِأَوْلَادِهَا فَأُلْقُوا بَيْنَ أَيْدِيهَا وَاحِدًا وَاحِدًا إِلَى أَنِ انْتَهَى ذَلِكَ إِلَى صَبِيٍّ لَهَا مُرْضَعٍ ، كَأَنَّهَا تَقَاعَسَتْ مِنْ أَجْلِهِ . قَالَ : يَا أُمَّهْ ، اقْتَحِمِي ، فَإِنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ ، فَاقْتَحَمَتْ " . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : تَكَلَّمَ أَرْبَعَةٌ صِغَارٌ : عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ ، وَصَاحِبُ جُرَيْجٍ ، وَشَاهِدُ يُوسُفَ ، وَابْنُ مَاشِطَةِ ابْنَةِ فِرْعَوْنَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جس رات مجھے سیر کروائی گئی ، تو میں ایک پاکیزہ خوشبو کے پاس آیا ، میں نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! یہ پاکیزہ خوشبو کس کی ہے ؟ انہوں نے بتایا : یہ فرعون کی بیٹی اور اس کی اولاد کو کنگھی کرنے والی عورت کی خوشبو ہے ، میں نے دریافت کیا : اس کا کیا معاملہ ہے ؟ انہوں نے بتایا : ایک مرتبہ یہ عورت فرعون کی بیٹی کو کنگھی کر رہی تھی ، اس دوران اُس کے ہاتھ سے کنگھی گر گئی ، تو اُس نے کہا: اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، فرعون کی بیٹی نے اُس سے دریافت کیا : کیا تم میرے باپ کو مراد لے رہی ہو ؟ اُس عورت نے جواب دیا : جی نہیں ! میری مراد ، میرا اور تمہارے باپ کا پروردگار ، اللہ تعالیٰ ہے ، فرعون کی بیٹی نے کہا: کیا میں اپنے باپ کو یہ بات بتا دوں ؟ اُس عورت نے کہا: جی ہاں ! فرعون کی بیٹی نے فرعون کو یہ بات بتائی ، تو فرعون نے اُس عورت کو بلوا لیا اور بولا: اے فلانہ ! کیا تمہارا میرے علاوہ کوئی اور پروردگار ہے ؟ اُس عورت نے جواب دیا : جی ہاں ! میرا اور تمہارا پروردگار ، اللہ تعالیٰ ہے ، فرعون نے حکم دیا ، تو کچھ سیسہ پگھلایا گیا ، پھر فرعون کے حکم کے تحت اُس عورت اور اس کی اولاد کو اس میں ڈال دیا گیا ، اُس سے پہلے اس عورت نے فرعون سے کہا: مجھے تم سے ایک کام ہے ، فرعون نے دریافت کیا : تمہیں کیا کام ہے ؟ اس عورت نے جواب دیا : میں یہ کہتی ہوں کہ تم میری ہڈیوں اور میری اولاد کی ہڈیوں کو ایک ہی کپڑے میں جمع کر دینا اور پھر ہمیں ایک ساتھ دفن کر دینا ، فرعون نے کہا: یہ ہمارے ذمہ ہے ، پھر فرعون نے حکم دیا : کہ اُس کی اولاد کو ایک ، ایک کر کے اُس عورت کے سامنے اُس میں ڈال دیا جائے ، ایسا ہی کیا گیا یہاں تک کہ اُس عورت کے دودھ پیتے بچے کی باری آ گئی ، اس بچے کی وجہ سے وہ عورت پریشان ہوئی ، تو اس ( دودھ پیتے بچے ) نے کہا: اے امی جان ! حوصلہ رکھیں ، کیونکہ دنیا کا عذاب ، آخرت کے عذاب سے ہلکا ہے ، تو وہ عورت کود گئی “ ۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : کم سنی میں چار بچوں نے کلام کیا ہے : سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے ، جریج کے واقعہ والے بچے نے ، سیدنا یوسف علیہ السلام کے گواہ نے ، اور فرعون کی بیٹی کو کنگھی کرنے والی عورت کے بچے نے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے ، جبکہ امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، وہ ثقہ ہے لیکن اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : کم سنی میں چار بچوں نے کلام کیا ہے : سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے ، جریج کے واقعہ والے بچے نے ، سیدنا یوسف علیہ السلام کے گواہ نے ، اور فرعون کی بیٹی کو کنگھی کرنے والی عورت کے بچے نے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے ، جبکہ امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، وہ ثقہ ہے لیکن اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حدیث نمبر: 231
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ قَالَ : " فُرِجَ سَقْفُ بَيْتِي وَأَنَا بِمَكَّةَ ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَفَرَجَ صَدْرِي ، ثُمَّ غَسَلَهُ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ ، ثُمَّ جَاءَ بِطَسْتٍ مُمْتَلِئٍ حِكْمَةً وَإِيمَانًا ، فَأَفْرَغَهَا فِي صَدْرِي ، ثُمَّ أَطْبَقَهُ ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَعَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ ، فَلَمَّا جَاءَ السَّمَاءَ الدُّنْيَا فَاسْتَفْتَحَ قَالَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَ : هَلْ مَعَكَ أَحَدٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، مَعِي مُحَمَّدٌ . قَالَ : أُرْسِلَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَافْتَحْ ، فَلَمَّا عَلَوْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا إِذَا رَجُلٌ عَنْ يَمِينِهِ أَسْوِدَةٌ ، وَعَنْ يَسَارِهِ أَسْوِدَةٌ ، فَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ تَبَسَّمَ ، وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَسَارِهِ بَكَى . قَالَ : مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالِابْنِ الصَّالِحِ . قَالَ : قُلْتُ لِجِبْرِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا آدَمُ ، وَهَذِهِ الْأَسْوِدَةُ عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ نَسَمُ بَنِيهِ ، فَأَهْلُ الْيَمِينِ هُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ ، وَالْأَسْوِدَةُ الَّتِي عَنْ شِمَالِهِ أَهْلُ النَّارِ ، فَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِكَ ، وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَكَى . قَالَ : ثُمَّ عَرَجَ بِي جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى جَاءَ السَّمَاءَ الثَّانِيَةَ ، فَقَالَ لِخَازِنِهَا : افْتَحْ ، فَقَالَ لَهُ خَازِنُهَا مِثْلَ مَا قَالَ خَازِنُ سَمَاءِ الدُّنْيَا ، فَفَتَحَ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ مِنْ زِيَادَاتِهِ عَلَى أَبِيهِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ” میرے گھر کی چھت کو کھول دیا گیا ، میں اُس وقت مکہ میں موجود تھا ، سیدنا جبرئیل علیہ السلام نازل ہوئے ، انہوں نے میرے سینے کو کھولا اور پھر اسے آب زمزم کے ذریعے دھویا ، پھر وہ ایک طشت لے کر آئے ، جو حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا ، انہوں نے میرے سینے میں ڈال دیا اور پھر اُسے بند کر دیا ، پھر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ساتھ لے کر آسمان کی طرف بلند ہوئے ، جب آسمان دنیا آیا ، تو انہوں نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا: ( دوسری طرف سے ) پوچھا: گیا : کون ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جبرائیل ، ( دوسری طرف سے ) پوچھا: گیا : کیا آپ کے ساتھ کوئی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! میرے ساتھ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، ( دوسری طرف سے ) پوچھا: گیا : کیا انہیں بلوایا گیا ہے ؟ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا : جی ہاں ! تو دروازہ کھول دیا گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : جب ہم آسمان دنیا پر آئے ، تو وہاں ایک صاحب موجود تھے ، اُن کے دائیں طرف بھی بہت سے لوگ تھے اور بائیں طرف بھی بہت سے لوگ تھے ، جب وہ دائیں طرف دیکھتے تھے ، تو مسکرا دیتے تھے اور جب بائیں طرف دیکھتے تھے ، تو رونے لگ جاتے تھے ، انہوں نے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے ) فرمایا : نیک نبی اور نیک بیٹے کو خوش آمدید ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : میں نے جبرائیل سے دریافت کیا : یہ کون ہیں ؟ انہوں نے بتایا : یہ سیدنا آدم علیہ السلام ہیں اور ان کے دائیں طرف اور بائیں طرف موجود افراد ان کی اولاد کی جانیں ہیں ، دائیں طرف والے لوگ جنتی ہیں اور بائیں طرف موجود افراد جہنمی ہیں ، جب یہ دائیں طرف دیکھتے ہیں ، تو ہنس پڑتے ہیں اور جب بائیں طرف دیکھتے ہیں ، تو رونے لگ جاتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : پھر جبرائیل مجھے ساتھ لے کر اوپر گئے ، یہاں تک کہ وہ دوسرے آسمان کے پاس پہنچ گئے ، تو انہوں نے اس کے دربان سے کہا: دروازہ کھولو ! اُس کے دربان نے بھی وہی مکالمہ کیا ، جو آسمانِ دنیا کے دربان نے کیا تھا ، پھر اس نے بھی دروازہ کھول دیا “ ۔
یہ روایت عبداللہ نے اپنے والد ( امام أحمد بن حنبل کی ” مسند “ پر ، اپنی ” زیادات “ میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت عبداللہ نے اپنے والد ( امام أحمد بن حنبل کی ” مسند “ پر ، اپنی ” زیادات “ میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 232
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي لَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ ، فَنَظَرْتُ فَوْقَ - قَالَ عَفَّانُ : فَوْقِي - فَإِذَا أَنَا بِرَعْدٍ وَبُرُوقٍ وَصَوَاعِقَ . قَالَ : فَأَتَيْتُ عَلَى قَوْمٍ بُطُونُهُمْ كَالْبُيُوتِ ، فِيهَا الْحَيَّاتُ تُرَى مِنْ خَارِجِ بُطُونِهِمْ . قُلْتُ : مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ ؟ قَالَ : هَؤُلَاءِ أَكَلَةُ الرِّبَا ، فَلَمَّا نَزَلْتُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَنَظَرْتُ أَسْفَلَ مِنِّي ، فَإِذَا أَنَا بِرِيحٍ وَأَصْوَاتٍ وَدُخَانٍ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ ؟ قَالَ : هَذِهِ شَيَاطِينُ يَحْرِفُونَ عَلَى أَعْيُنِ بَنِي آدَمَ لَا يَتَفَكَّرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، وَلَوْلَا ذَلِكَ لَرَأَوُا الْعَجَائِبَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ قِصَّةَ أَكَلَةِ الرِّبَا ، وَفِيهِ أَبُو الصَّلْتِ لَا يُعْرَفُ ، وَلَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جس رات مجھے معراج کروائی گئی ، اس میں جب ہم ساتویں آسمان پر پہنچ گئے اور میں نے اوپر کی طرف دیکھا ( یہاں ایک راوی نے یہ لفظ نقل کیا ہے ) اپنے اوپر کی طرف دیکھا ، تو وہاں کڑک دار چمکتی ہوئی بجلی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : میں کچھ لوگوں کے پاس آیا ، جن کے پیٹ کھروں کی طرح تھے اور ان میں سانپ موجود تھے جو اُن کے پیٹ کے باہر سے بھی نظر آ رہے تھے ، میں نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے بتایا : یہ سود کھانے والے ہیں ، جب میں نیچے کی طرف آتے ہوئے آسمان پر آیا اور میں نے اپنے نیچے دیکھا ، تو میرے سامنے ہوا تھی ، آوازیں تھیں اور دھواں تھا ، میں نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! یہ کیا ہے ؟ انہوں نے بتایا : یہ شیاطین ہیں ، جو اولاد آدم کی آنکھوں کو دھوکہ دیتے ہیں ، ( اُن لوگوں کو ) جو لوگ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی میں غور و فکر نہیں کرتے ہیں ، اور اگر ایسا نہ ہو تو وہ عجیب و غریب چیزیں دیکھیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام ابن ماجہ نے اس میں سے سود کھانے والوں کا قصہ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوصلت ہے ، جو معروف نہیں ہے اور علی بن زید کے علاوہ اور کسی نے اُس سے روایت نقل نہیں کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام ابن ماجہ نے اس میں سے سود کھانے والوں کا قصہ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوصلت ہے ، جو معروف نہیں ہے اور علی بن زید کے علاوہ اور کسی نے اُس سے روایت نقل نہیں کی ہے ۔
حدیث نمبر: 233
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي وَضَعْتُ قَدَمَيَّ حَيْثُ تُوضَعُ أَقْدَامُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ ، فَعُرِضَ عَلِيَّ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ ، وَعُرِضَ عَلِيَّ مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا رَجُلٌ ضَرْبٌ مِنَ الرِّجَالِ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ ، وَعُرِضَ عَلِيَّ إِبْرَاهِيمُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا صَاحِبُكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَيَحْيَى وَابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جس رات مجھے معراج کروائی گئی ، میں نے دیکھا کہ میں نے بیت المقدس میں اپنے پاؤں وہیں رکھے ، جہاں انبیاء کرام علیہم السلام کے قدم رکھے جاتے تھے ، میرے سامنے سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام آئے ، تو لوگوں میں ان کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت عروہ بن مسعود رکھتا ہے ، میرے سامنے سیدنا موسیٰ علیہ السلام آئے ، تو ان کا حلیہ ایسا تھا کہ وہ شنوہ قبیلے کے فرد محسوس ہوتے تھے ، میرے سامنے سیدنا ابراہیم علیہ السلام آئے ، تو لوگوں میں اُن کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت تمہارے آقا ( یعنی نبی اکرم ) رکھتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ابوسلمہ ہے ، امام أحمد ، یحیی بن معین اور ابن حبان نے اس کو ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ علی بن مدینی اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ابوسلمہ ہے ، امام أحمد ، یحیی بن معین اور ابن حبان نے اس کو ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ علی بن مدینی اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 234
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : أُسْرِيَ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ ، ثُمَّ جَاءَ مِنْ لَيْلَتِهِ ، فَحَدَّثَهُمْ بِمَسِيرِهِ وَبِعَلَامَةِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَبِعِيرِهِمْ ، فَقَالَ نَاسٌ - قَالَ حَسَنٌ - : نَحْنُ نُصَدِّقُ مُحَمَّدًا بِمَا يَقُولُ ، فَارْتَدُّوا كُفَّارًا ، فَضَرَبَ اللَّهُ أَعْنَاقَهُمْ مَعَ أَبِي جَهْلٍ ، وَقَالَ أَبُو جَهْلٍ : يُخَوِّفُنَا مُحَمَّدٌ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ ، هَاتُوا تَمْرًا وَزُبْدًا فَتَزَقَّمُوا . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ هِلَالَ بْنَ خَبَّابٍ قَالَ يَحْيَى الْقَطَّانُ : إِنَّهُ تَغَيَّرَ قَبْلَ مَوْتِهِ ، وَقَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ : لَمْ يَتَغَيَّرْ وَلَمْ يَخْتَلِطْ ، ثِقَةٌ مَأْمُونٌ ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَزَادَ : قَالَ : وَرَأَى الدَّجَّالَ فِي صُورَتِهِ رُؤْيَا عَيْنٍ ، لَيْسَ رُؤْيَا مَنَامٍ ، وَعِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ ، وَإِبْرَاهِيمَ . قَالَ : فَسُئِلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الدَّجَّالِ ، فَقَالَ : " رَأَيْتُهُ فَيْلَمَانِيًّا ، أَقْمَرَ ، هِجَانًا ، إِحْدَى عَيْنَيْهِ قَائِمَةٌ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ ، كَأَنَّ شَعْرَهُ أَغْصَانُ شَجَرَةٍ ، وَرَأَيْتُ عِيسَى شَابًّا أَبْيَضَ ، جَعْدَ الرَّأْسِ ، حَدِيدَ الْبَصَرِ ، مُبَطَّنَ الْخَلْقِ ، وَرَأَيْتُ مُوسَى أَسْحَمَ ، آدَمَ ، كَثِيرَ الشَّعْرِ ، شَدِيدَ الْخَلْقِ ، وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ ، فَلَا أَنْظُرُ إِلَى إِرْبٍ مِنْ آرَابِهِ إِلَّا نَظَرْتُ إِلَيْهِ كَأَنَّهُ صَاحِبُكُمْ . قَالَ : وَقَالَ لِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ : سَلِّمْ عَلَى أَبِيكَ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے وقت بیت المقدس تک لے جایا گیا ، اور پھر اسی رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس بھی تشریف لے آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اپنے تشریف لے جانے کے بارے میں اور انہیں بیت المقدس کی نشانیوں اور اُن لوگوں کے اونٹوں کے بارے میں بتایا ، تو کچھ لوگوں نے کہا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو کہہ رہے ہیں ، ہم اُس کے حوالے سے اُن کی تصدیق کرتے ہیں ، لیکن پھر اُس کے بعد وہ لوگ مرتد ہو کر کافر ہو گئے ، تو اللہ تعالیٰ نے اُن کی گردنیں ابوجہل کے ساتھ ملا دیں ابوجہل نے کہا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس زقوم کے درخت سے ڈراتے ہیں ، تم لوگ کھجور اور پنیر لاؤ اور ان کو چیر دو ! “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اس کے بعد راوی نے پوری حدیث روایت کی ہے یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، صرف ہلال بن خباب کا معاملہ مختلف ہے ، یحیی القطان کہتے ہیں : مرنے سے پہلے یہ تغیر کا شکار ہو گیا تھا ، یحیی بن معین کہتے ہیں : یہ نہ تو متغیر ہوا تھا اور نہ ہی اختلاط کا شکار ہوا تھا ، یہ ثقہ اور مامون ہے ۔
یہی روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس میں یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں :
” سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کی اصل شکل و صورت دیکھی اور یہ دیکھنا ؟ آنکھ کے ذریعے تھا خواب میں دیکھنا نہیں تھا ، اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو بھی دیکھا ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں سوال کیا گیا : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے اُسے دیکھا کہ وہ بھاری بھرکم صاف رنگ کا مالک تھا ، اُس کی ایک آنکھ موجود تھی جو چمکدار ستارے کی مانند تھی اور اس کے بال درخت کی ٹہنیوں کی مانند تھے ، میں نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ گوری رنگت کے نوجوان تھے ، اُن کے بال ہلکے سے گھنگریالے تھے ، نگاہ تیز تھی ، جس مضبوط تھا اور میں نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ گندمی رنگت کے مالک تھے ، بال بہت زیادہ تھے اور جسم مضبوط تھا ، میں نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو بھی دیکھا ، میں نے اُن کے جسم کے جس حصے پر بھی نظر ڈالی ، تو یوں لگا جیسے وہ تمہارے آقا ( یعنی خود نبی اکرم ) ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : جبرائیل علیہ السلام نے مجھ سے کہا: آپ اپنے جد امجد ( سیدنا ابراہیم علیہ السلام ) کو سلام کریں ، تو میں نے انہیں سلام کیا “ ۔
اس کے بعد راوی نے پوری حدیث روایت کی ہے یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، صرف ہلال بن خباب کا معاملہ مختلف ہے ، یحیی القطان کہتے ہیں : مرنے سے پہلے یہ تغیر کا شکار ہو گیا تھا ، یحیی بن معین کہتے ہیں : یہ نہ تو متغیر ہوا تھا اور نہ ہی اختلاط کا شکار ہوا تھا ، یہ ثقہ اور مامون ہے ۔
یہی روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس میں یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں :
” سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کی اصل شکل و صورت دیکھی اور یہ دیکھنا ؟ آنکھ کے ذریعے تھا خواب میں دیکھنا نہیں تھا ، اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو بھی دیکھا ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں سوال کیا گیا : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے اُسے دیکھا کہ وہ بھاری بھرکم صاف رنگ کا مالک تھا ، اُس کی ایک آنکھ موجود تھی جو چمکدار ستارے کی مانند تھی اور اس کے بال درخت کی ٹہنیوں کی مانند تھے ، میں نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ گوری رنگت کے نوجوان تھے ، اُن کے بال ہلکے سے گھنگریالے تھے ، نگاہ تیز تھی ، جس مضبوط تھا اور میں نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ گندمی رنگت کے مالک تھے ، بال بہت زیادہ تھے اور جسم مضبوط تھا ، میں نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو بھی دیکھا ، میں نے اُن کے جسم کے جس حصے پر بھی نظر ڈالی ، تو یوں لگا جیسے وہ تمہارے آقا ( یعنی خود نبی اکرم ) ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : جبرائیل علیہ السلام نے مجھ سے کہا: آپ اپنے جد امجد ( سیدنا ابراہیم علیہ السلام ) کو سلام کریں ، تو میں نے انہیں سلام کیا “ ۔