مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ "الْإِمَامُ ضَامِنٌ" . باب: امام ضامن ہوتا ہے
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْإِمَامُ ضَامِنٌ فَمَا صَنَعَ فَاصْنَعُوا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ: مُوسَى بْنُ شَيْبَةَ مِنْ وَلَدِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ ، وَوَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ أَيْضًا . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي قَوْلِهِ : " الْإِمَامُ ضَامِنٌ وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ " فِي الْأَذَانِ . ¤سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” امام ضامن ہوتا ہے ، جو وہ کرے تم بھی وہی کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن شیبہ ہے ، جو سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہے امام أحمد نے اسے ضعیف قرار دیا ہے امام ابوحاتم نے اسے ” ثقہ “ کہا: ہے ۔ ابن حبان نے بھی اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے احادیث گزر چکی ہیں جو اذان سے متعلق باب میں گزری ہیں ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بارے میں ہیں : ” امام ضامن ہوتا ہے ، اور مؤذن امین ہوتا ہے “ ۔