حدیث نمبر: 2337
عَنْ شَيْخٍ مِنْ طَيِّءٍ قَالَ : مَرَّ ابْنُ مَسْعُودٍ عَلَى مَسْجِدٍ لَنَا فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ثُمَّ قَالَ : نَحُجُّ بَيْتَ رَبِّنَا وَنَقْضِي الدِّينَ وَهُوَ مِثْلُ الْقَطَوَاتِ يَهْوِينَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : مَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي الْمِلَّةِ الْآخِرَةِ ، إِنْ هَذَا إِلَّا اخْتِلَاقٌ ، فَانْصَرَفَ عَبْدُ اللَّهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَهَذَا الشَّيْخُ الطَّائِيُّ لَا أَعْرِفُهُ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

طے قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا گزر ہماری مسجد کے پاس سے ہوا ان لوگوں میں سے ایک شخص آگے بڑھا اس نے سورہ فاتحہ پڑھنی شروع کی پھر اس نے یہ کلمات پڑھے : ہم اپنے پروردگار کے گھر کا حج کریں گے اور اپنے ذمہ لازم ادائیگی کو ادا کریں گے اور وہ گھر قطاۃ پرندوں کی مانند ہے ، جو نیچے کی طرف آتے ہیں ، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہم نے یہ کلمات اور کہیں نہیں سنے ہیں یہ اس کے اپنے ایجاد کیے ہوئے ہیں پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مڑ گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور طے قبیلے سے تعلق رکھنے والے اس بزرگ سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2337
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف