مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ "الْإِمَامُ ضَامِنٌ" . باب: امام ضامن ہوتا ہے
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَمَّ قَوْمًا فَلْيَتَّقِ اللَّهَ وَلْيَعْلَمْ أَنَّهُ ضَامِنٌ مَسْئُولٌ لِمَا ضَمِنَ، فَإِنْ أَحْسَنَ كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ صَلَّى خَلْفَهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْتَقِصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَا كَانَ مِنْ نَقْصٍ فَهُوَ عَلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مُعَارِكُ بْنُ عَبَّادٍ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَالْبُخَارِيُّ وَأَبُو زُرْعَةَ وَالدَّارَقُطْنِيُّ ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص لوگوں کی امامت کرتا ہے ، اسے اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے اور اسے یہ بات جان لینی چاہیے کہ وہ ضامن ہے ، اور جس چیز کا وہ ضامن ہے ، اس چیز کے حوالے سے اس سے حساب لیا جائے گا اگر اس نے اچھا کام کیا ہو گا ، تو اسے اجر ملے گا ، اور جن لوگوں نے اس کے پیچھے نماز ادا کی تھی ان جتنا اجر ملے گا ، اور ان لوگوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہو گی ، اور ( امام کی طرف سے ) جو کوتاہی ہو گی تو اس کا وبال اس ( امام ) پر ہی ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی معارک بن عباد ہے ، جسے امام أحمد امام بخاری رحمہ اللہ امام ابوزرعہ اور امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔