حدیث نمبر: 232
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي لَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ ، فَنَظَرْتُ فَوْقَ - قَالَ عَفَّانُ : فَوْقِي - فَإِذَا أَنَا بِرَعْدٍ وَبُرُوقٍ وَصَوَاعِقَ . قَالَ : فَأَتَيْتُ عَلَى قَوْمٍ بُطُونُهُمْ كَالْبُيُوتِ ، فِيهَا الْحَيَّاتُ تُرَى مِنْ خَارِجِ بُطُونِهِمْ . قُلْتُ : مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ ؟ قَالَ : هَؤُلَاءِ أَكَلَةُ الرِّبَا ، فَلَمَّا نَزَلْتُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَنَظَرْتُ أَسْفَلَ مِنِّي ، فَإِذَا أَنَا بِرِيحٍ وَأَصْوَاتٍ وَدُخَانٍ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ ؟ قَالَ : هَذِهِ شَيَاطِينُ يَحْرِفُونَ عَلَى أَعْيُنِ بَنِي آدَمَ لَا يَتَفَكَّرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، وَلَوْلَا ذَلِكَ لَرَأَوُا الْعَجَائِبَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ قِصَّةَ أَكَلَةِ الرِّبَا ، وَفِيهِ أَبُو الصَّلْتِ لَا يُعْرَفُ ، وَلَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جس رات مجھے معراج کروائی گئی ، اس میں جب ہم ساتویں آسمان پر پہنچ گئے اور میں نے اوپر کی طرف دیکھا ( یہاں ایک راوی نے یہ لفظ نقل کیا ہے ) اپنے اوپر کی طرف دیکھا ، تو وہاں کڑک دار چمکتی ہوئی بجلی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : میں کچھ لوگوں کے پاس آیا ، جن کے پیٹ کھروں کی طرح تھے اور ان میں سانپ موجود تھے جو اُن کے پیٹ کے باہر سے بھی نظر آ رہے تھے ، میں نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے بتایا : یہ سود کھانے والے ہیں ، جب میں نیچے کی طرف آتے ہوئے آسمان پر آیا اور میں نے اپنے نیچے دیکھا ، تو میرے سامنے ہوا تھی ، آوازیں تھیں اور دھواں تھا ، میں نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! یہ کیا ہے ؟ انہوں نے بتایا : یہ شیاطین ہیں ، جو اولاد آدم کی آنکھوں کو دھوکہ دیتے ہیں ، ( اُن لوگوں کو ) جو لوگ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی میں غور و فکر نہیں کرتے ہیں ، اور اگر ایسا نہ ہو تو وہ عجیب و غریب چیزیں دیکھیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام ابن ماجہ نے اس میں سے سود کھانے والوں کا قصہ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوصلت ہے ، جو معروف نہیں ہے اور علی بن زید کے علاوہ اور کسی نے اُس سے روایت نقل نہیں کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 232
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 363 ، 353/2 أورده المؤلف فى زوائد المسند 3122»