مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْإِسْرَاءِ . باب: واقعہ معراج کا بیان
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ قَالَ : " فُرِجَ سَقْفُ بَيْتِي وَأَنَا بِمَكَّةَ ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَفَرَجَ صَدْرِي ، ثُمَّ غَسَلَهُ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ ، ثُمَّ جَاءَ بِطَسْتٍ مُمْتَلِئٍ حِكْمَةً وَإِيمَانًا ، فَأَفْرَغَهَا فِي صَدْرِي ، ثُمَّ أَطْبَقَهُ ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَعَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ ، فَلَمَّا جَاءَ السَّمَاءَ الدُّنْيَا فَاسْتَفْتَحَ قَالَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَ : هَلْ مَعَكَ أَحَدٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، مَعِي مُحَمَّدٌ . قَالَ : أُرْسِلَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَافْتَحْ ، فَلَمَّا عَلَوْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا إِذَا رَجُلٌ عَنْ يَمِينِهِ أَسْوِدَةٌ ، وَعَنْ يَسَارِهِ أَسْوِدَةٌ ، فَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ تَبَسَّمَ ، وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَسَارِهِ بَكَى . قَالَ : مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالِابْنِ الصَّالِحِ . قَالَ : قُلْتُ لِجِبْرِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا آدَمُ ، وَهَذِهِ الْأَسْوِدَةُ عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ نَسَمُ بَنِيهِ ، فَأَهْلُ الْيَمِينِ هُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ ، وَالْأَسْوِدَةُ الَّتِي عَنْ شِمَالِهِ أَهْلُ النَّارِ ، فَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِكَ ، وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَكَى . قَالَ : ثُمَّ عَرَجَ بِي جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى جَاءَ السَّمَاءَ الثَّانِيَةَ ، فَقَالَ لِخَازِنِهَا : افْتَحْ ، فَقَالَ لَهُ خَازِنُهَا مِثْلَ مَا قَالَ خَازِنُ سَمَاءِ الدُّنْيَا ، فَفَتَحَ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ مِنْ زِيَادَاتِهِ عَلَى أَبِيهِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ” میرے گھر کی چھت کو کھول دیا گیا ، میں اُس وقت مکہ میں موجود تھا ، سیدنا جبرئیل علیہ السلام نازل ہوئے ، انہوں نے میرے سینے کو کھولا اور پھر اسے آب زمزم کے ذریعے دھویا ، پھر وہ ایک طشت لے کر آئے ، جو حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا ، انہوں نے میرے سینے میں ڈال دیا اور پھر اُسے بند کر دیا ، پھر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ساتھ لے کر آسمان کی طرف بلند ہوئے ، جب آسمان دنیا آیا ، تو انہوں نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا: ( دوسری طرف سے ) پوچھا: گیا : کون ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جبرائیل ، ( دوسری طرف سے ) پوچھا: گیا : کیا آپ کے ساتھ کوئی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! میرے ساتھ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، ( دوسری طرف سے ) پوچھا: گیا : کیا انہیں بلوایا گیا ہے ؟ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا : جی ہاں ! تو دروازہ کھول دیا گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : جب ہم آسمان دنیا پر آئے ، تو وہاں ایک صاحب موجود تھے ، اُن کے دائیں طرف بھی بہت سے لوگ تھے اور بائیں طرف بھی بہت سے لوگ تھے ، جب وہ دائیں طرف دیکھتے تھے ، تو مسکرا دیتے تھے اور جب بائیں طرف دیکھتے تھے ، تو رونے لگ جاتے تھے ، انہوں نے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے ) فرمایا : نیک نبی اور نیک بیٹے کو خوش آمدید ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : میں نے جبرائیل سے دریافت کیا : یہ کون ہیں ؟ انہوں نے بتایا : یہ سیدنا آدم علیہ السلام ہیں اور ان کے دائیں طرف اور بائیں طرف موجود افراد ان کی اولاد کی جانیں ہیں ، دائیں طرف والے لوگ جنتی ہیں اور بائیں طرف موجود افراد جہنمی ہیں ، جب یہ دائیں طرف دیکھتے ہیں ، تو ہنس پڑتے ہیں اور جب بائیں طرف دیکھتے ہیں ، تو رونے لگ جاتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : پھر جبرائیل مجھے ساتھ لے کر اوپر گئے ، یہاں تک کہ وہ دوسرے آسمان کے پاس پہنچ گئے ، تو انہوں نے اس کے دربان سے کہا: دروازہ کھولو ! اُس کے دربان نے بھی وہی مکالمہ کیا ، جو آسمانِ دنیا کے دربان نے کیا تھا ، پھر اس نے بھی دروازہ کھول دیا “ ۔
یہ روایت عبداللہ نے اپنے والد ( امام أحمد بن حنبل کی ” مسند “ پر ، اپنی ” زیادات “ میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔