حدیث نمبر: 230
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ أُسْرِيَ بِي أَتَيْتُ عَلَى رَائِحَةٍ طَيِّبَةٍ ، فَقُلْتُ : يَا جِبْرِيلُ ، مَا هَذِهِ الرَّائِحَةُ الطَّيِّبَةُ ؟ قَالَ : هَذِهِ رَائِحَةُ مَاشِطَةِ ابْنَةِ فِرْعَوْنَ وَأَوْلَادِهَا . قُلْتُ : وَمَا شَأْنُهَا ؟ قَالَ : بَيْنَا هِيَ تُمَشِّطُ ابْنَةَ فِرْعَوْنَ ذَاتَ يَوْمٍ إِذْ سَقَطَ الْمِدْرَى مِنْ يَدِهَا ، فَقَالَتْ : بِسْمِ اللَّهِ ، فَقَالَتْ لَهَا ابْنَةُ فِرْعَوْنَ : أَبِي ؟ قَالَتْ : لَا ، وَلَكِنْ رَبِّي وَرَبُّ أَبِيكِ اللَّهُ . قَالَتْ : أُخْبِرُهُ بِذَا ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، فَأَخْبَرَتْهُ فَدَعَاهَا ، فَقَالَ : يَا فُلَانَةُ ، وَإِنَّ لَكِ رَبًّا غَيْرِي ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُ . وَأَمَرَ بِنُقْرَةٍ مِنْ نُحَاسٍ فَأُحْمِيَتْ ، ثُمَّ أَمَرَ أَنْ تُلْقَى هِيَ وَأَوْلَادُهَا فِيهَا . قَالَتْ لَهُ : إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً . قَالَ : وَمَا حَاجَتُكِ ؟ قَالَتْ : أُحِبُّ أَنْ تَجْمَعَ عِظَامِي وَعِظَامَ أَوْلَادِي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ فَتَدْفِنَنَا جَمِيعًا . قَالَ : ذَلِكَ عَلَيْنَا مِنَ الْحَقِّ . قَالَ : فَأَمَرَ بِأَوْلَادِهَا فَأُلْقُوا بَيْنَ أَيْدِيهَا وَاحِدًا وَاحِدًا إِلَى أَنِ انْتَهَى ذَلِكَ إِلَى صَبِيٍّ لَهَا مُرْضَعٍ ، كَأَنَّهَا تَقَاعَسَتْ مِنْ أَجْلِهِ . قَالَ : يَا أُمَّهْ ، اقْتَحِمِي ، فَإِنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ ، فَاقْتَحَمَتْ " . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : تَكَلَّمَ أَرْبَعَةٌ صِغَارٌ : عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ ، وَصَاحِبُ جُرَيْجٍ ، وَشَاهِدُ يُوسُفَ ، وَابْنُ مَاشِطَةِ ابْنَةِ فِرْعَوْنَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جس رات مجھے سیر کروائی گئی ، تو میں ایک پاکیزہ خوشبو کے پاس آیا ، میں نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! یہ پاکیزہ خوشبو کس کی ہے ؟ انہوں نے بتایا : یہ فرعون کی بیٹی اور اس کی اولاد کو کنگھی کرنے والی عورت کی خوشبو ہے ، میں نے دریافت کیا : اس کا کیا معاملہ ہے ؟ انہوں نے بتایا : ایک مرتبہ یہ عورت فرعون کی بیٹی کو کنگھی کر رہی تھی ، اس دوران اُس کے ہاتھ سے کنگھی گر گئی ، تو اُس نے کہا: اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، فرعون کی بیٹی نے اُس سے دریافت کیا : کیا تم میرے باپ کو مراد لے رہی ہو ؟ اُس عورت نے جواب دیا : جی نہیں ! میری مراد ، میرا اور تمہارے باپ کا پروردگار ، اللہ تعالیٰ ہے ، فرعون کی بیٹی نے کہا: کیا میں اپنے باپ کو یہ بات بتا دوں ؟ اُس عورت نے کہا: جی ہاں ! فرعون کی بیٹی نے فرعون کو یہ بات بتائی ، تو فرعون نے اُس عورت کو بلوا لیا اور بولا: اے فلانہ ! کیا تمہارا میرے علاوہ کوئی اور پروردگار ہے ؟ اُس عورت نے جواب دیا : جی ہاں ! میرا اور تمہارا پروردگار ، اللہ تعالیٰ ہے ، فرعون نے حکم دیا ، تو کچھ سیسہ پگھلایا گیا ، پھر فرعون کے حکم کے تحت اُس عورت اور اس کی اولاد کو اس میں ڈال دیا گیا ، اُس سے پہلے اس عورت نے فرعون سے کہا: مجھے تم سے ایک کام ہے ، فرعون نے دریافت کیا : تمہیں کیا کام ہے ؟ اس عورت نے جواب دیا : میں یہ کہتی ہوں کہ تم میری ہڈیوں اور میری اولاد کی ہڈیوں کو ایک ہی کپڑے میں جمع کر دینا اور پھر ہمیں ایک ساتھ دفن کر دینا ، فرعون نے کہا: یہ ہمارے ذمہ ہے ، پھر فرعون نے حکم دیا : کہ اُس کی اولاد کو ایک ، ایک کر کے اُس عورت کے سامنے اُس میں ڈال دیا جائے ، ایسا ہی کیا گیا یہاں تک کہ اُس عورت کے دودھ پیتے بچے کی باری آ گئی ، اس بچے کی وجہ سے وہ عورت پریشان ہوئی ، تو اس ( دودھ پیتے بچے ) نے کہا: اے امی جان ! حوصلہ رکھیں ، کیونکہ دنیا کا عذاب ، آخرت کے عذاب سے ہلکا ہے ، تو وہ عورت کود گئی “ ۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : کم سنی میں چار بچوں نے کلام کیا ہے : سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے ، جریج کے واقعہ والے بچے نے ، سیدنا یوسف علیہ السلام کے گواہ نے ، اور فرعون کی بیٹی کو کنگھی کرنے والی عورت کے بچے نے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے ، جبکہ امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، وہ ثقہ ہے لیکن اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 230
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 39/1 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 12279 ، 12280 ، اخرجه الامام أبو يعلى فى مسنده 2517 اورده المؤلف فى زوائد المسند 112 اورده المؤلف فى كشف الاستار 54»