مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْإِسْرَاءِ . باب: واقعہ معراج کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَمَّا كَانَ لَيْلَةُ أُسْرِيَ بِي وَأَصْبَحْتُ بِمَكَّةَ فَظَعْتُ بِأَمْرِي ، وَعَرَفْتُ أَنَّ النَّاسَ مُكَذِّبِيَّ ، فَقَعَدْتُ مُعْتَزِلًا حَزِينًا " . فَمَرَّ بِهِ عَدُوُّ اللَّهِ أَبُو جَهْلٍ ، فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُ كَالْمُسْتَهْزِئِ : هَلْ كَانَ مِنْ شَيْءٍ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نَعَمْ " قَالَ : وَمَا هُوَ ؟ قَالَ : " إِنِّي أُسْرِيَ بِي اللَّيْلَةَ " . قَالَ : إِلَى أَيْنَ ؟ قَالَ : " إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ " . قَالَ : ثُمَّ أَصْبَحْتَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْنَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ " فَلَمْ يُرِهِ أَنَّهُ يُكَذِّبُهُ مَخَافَةَ أَنْ يَجْحَدَهُ الْحَدِيثَ إِنْ دَعَا قَوْمَهُ إِلَيْهِ . قَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ دَعَوْتُ قَوْمَكَ أَتُحَدِّثُهُمْ مَا حَدَّثْتَنِي ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : هَيَّا مَعْشَرَ بَنِي كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ . قَالَ : فَانْتَقَضَتْ إِلَيْهِ الْمَجَالِسُ ، وَجَاءُوا حَتَّى جَلَسُوا إِلَيْهِمَا . قَالَ : حَدِّثْ قَوْمَكَ بِمَا حَدَّثْتَنِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِّي أُسْرِيَ بِي اللَّيْلَةَ " . قَالُوا : إِلَى أَيْنَ ؟ قَالَ : " إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ " قَالُوا : ثُمَّ أَصْبَحْتَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْنَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : فَمِنْ بَيْنِ مُصَفِّقٍ ، وَمِنْ بَيْنِ وَاضِعٍ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ مُتَعَجِّبًا لِلْكَذِبِ زَعَمَ . قَالُوا : وَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَنْعَتَ لَنَا الْمَسْجِدَ ؟ - وَفِي الْقَوْمِ مَنْ قَدْ سَافَرَ إِلَى ذَلِكَ الْبَلَدِ وَرَأَى الْمَسْجِدَ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَذَهَبْتُ أَنْعَتُ ، فَمَا زِلْتُ أَنْعَتُ حَتَّى الْتَبَسَ عَلَيَّ بَعْضُ النَّعْتِ " قَالَ : " فَجِيءَ بِالْمَسْجِدِ وَأَنَا أَنْظُرُ حَتَّى وُضِعَ دُونَ دَارِ عُقَيْلٍ - أَوْ عِقَالٍ - فَنَعَتُّهُ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ . قَالَ : وَكَانَ مَعَ هَذَا نَعْتٌ لَمْ أَحْفَظْهُ " قَالَ : فَقَالَ الْقَوْمُ : أَمَّا النَّعْتُ فَوَاللَّهِ لَقَدْ أَصَابَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب مجھے رات کے وقت سیر کروائی گئی اور اگلے دن میں مکہ میں موجود تھا ، تو میں اپنے معاملے کے بارے میں پریشانی کا شکار ہوا ، اور مجھے اندازہ ہو گیا کہ لوگ مجھے جھٹلائیں گے ، میں الگ تھلگ ہو کر پریشان بیٹھ گیا ، اللہ تعالیٰ کا دشمن ابوجہل ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا ، تو وہ آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا ، اس نے مذاق اڑانے کے انداز میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : کیا کچھ ہوا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! اُس نے دریافت کیا : وہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : گزشتہ رات مجھے سیر کروائی گئی ، اس نے دریافت کیا : کہاں تک ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیت المقدس تک ، اُس نے دریافت کیا : اور پھر ( اب ) آپ ہمارے درمیان بھی موجود ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ ظاہر نہیں کیا کہ وہ آپ کی بات کو جھٹلا رہا ہے ، اسے یہ اندیشہ ہوا کہ اگر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بلا کر لایا ، تو کہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کا انکار نہ کر دیں ، اس نے دریافت کیا : اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ اگر میں آپ کی قوم کو بلا کر لاؤں ، تو جو چیز آپ نے مجھے بیان کی ہے ، وہ آپ اُن کے سامنے بھی بیان کر دیں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! اس نے کہا: اے بنو کعب بن لوی ! ادھر آؤ ! تو مختلف محافل میں بیٹھے ہوئے لوگ اُس کی طرف آئے ، وہ لوگ آئے اور ان دونوں کے پاس بیٹھ گئے ، تو ابوجہل نے کہا: آپ نے جو بات مجھے بیان کی ہے ، وہ اپنی قوم کو بھی بیان کر دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : گزشتہ رات مجھے سیر کروائی گئی ، اُن لوگوں نے دریافت کیا : کہاں تک ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیت المقدس تک ، انہوں نے کہا: پھر آپ صبح کے وقت ( یعنی اب ) ہمارے درمیان بھی موجود ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! تو ان میں سے کسی نے تالی بجائی ، کسی نے حیرانگی کا اظہار کیا اور اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھ لیا ، ان کا یہ گمان تھا کہ یہ غلط بیانی ہے ، انہوں نے کہا: کیا آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ اس مسجد کا نقشہ ہمارے سامنے بیان کریں ؟ اُن لوگوں میں سے کچھ افراد نے اس شہر تک کا سفر کیا ہوا تھا اور وہ مسجد بھی دیکھی ہوئی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں : میں نے اُس کا نقشہ بیان کرنا شروع کیا ، تو اس کو بیان کرنے کے دوران مجھے التباس ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو وہ مسجد لائی گئی اور میں یہ دیکھ رہا تھا ، یہاں تک کہ اس مسجد کو دارعقیل کے پچھلی طرف رکھ دیا گیا ۔ راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : دار عقال ۔ تو میں نے اُس مسجد کو دیکھ کر اُس کا نقشہ بیان کرنا شروع کر دیا ۔
راوی بیان کرتے ہیں : اس روایت میں اس ( مسجد ) کے نقشے کے الفاظ بھی تھے ، لیکن وہ مجھے یاد نہیں رہے ہیں ، راوی بیان کرتے ہیں : تو اُن لوگوں نے کہا: جہاں تک نقشے کی بات ہے ، تو اللہ کی قسم ! وہ انہوں نے صحیح بیان کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اسے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کیا ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔