مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا يُعْفَى عَنْهُ فِي الصَّلَاةِ . باب: نماز میں کس چیز کی معافی ہے ؟
حدیث نمبر: 2274
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الصَّلَاةِ فِي الْقَوْسِ وَالْقَرْنِ فَقَالَ : " صَلِّ فِي الْقَوْسِ وَاطْرَحِ الْقَرْنَ " يَعْنِي الْكِنَانَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کمان اور قرن میں نماز ادا کرنے کے بارے میں دریافت کیا : تو آپ نے ارشاد فرمایا : کمان میں نماز ادا کر لو لیکن قرن کو پرے کر دو ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد ترکش تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے : اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن محمد بن ابراہیم تیمی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔