کتب حدیث › مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب › باب: نماز میں کس چیز کی معافی ہے ؟
❮
❯
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الصَّلَاةِ فِي الْقَوْسِ وَالْقَرْنِ فَقَالَ : " صَلِّ فِي الْقَوْسِ وَاطْرَحِ الْقَرْنَ " يَعْنِي الْكِنَانَةَ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کمان اور قرن میں نماز ادا کرنے کے بارے میں دریافت کیا : تو آپ نے ارشاد فرمایا : کمان میں نماز ادا کر لو لیکن قرن کو پرے کر دو ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد ترکش تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے : اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن محمد بن ابراہیم تیمی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2274
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «أخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 6277»
وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ : نَحَرَ ابْنُ مَسْعُودٍ جَزُورًا فَتَلَطَّخَ بِدَمِهَا وَفَرْثِهَا وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
ابن سیرین بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک اونٹ قربان کیا وہ اس کے خون اور گوبر میں لت پت ہو گئے اسی دوران نماز کھڑی ہو گئی ، اور انہوں نے نماز ادا کر لی اور از سرے نو وضو نہیں کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2275
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔