مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابُ زِيَادَةِ إِيمَانِ الْمُؤْمِنِينَ بَعْضِهِمْ عَلَى بَعْضٍ . باب: اہل ایمان میں سے، بعض کے ایمان کا، دوسروں سے زیادہ ہونا
حدیث نمبر: 227
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا نَعْلَمُ شَيْئًا خَيْرًا مِنْ مِائَةٍ مِثْلِهِ إِلَّا الرَّجُلَ الْمُؤْمِنَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، إِلَّا أَنَّ الطَّبَرَانِيَّ قَالَ فِي الْحَدِيثِ : " لَا نَعْلَمُ شَيْئًا خَيْرًا مِنْ أَلْفٍ مِثْلِهِ " . وَمَدَارُهُ عَلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جَدًّا . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما وایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” ہمیں ایسی کسی چیز کا علم نہیں ہے ، جو اپنے ہی جیسی ” ایک سو “ چیزوں سے زیادہ بہتر ہو ، البتہ مؤمن شخص کا معاملہ مختلف ہے “ ۔ یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، البتہ امام طبرانی نے روایت میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” ہمیں ایسی کسی چیز کا علم نہیں ہے ، جو اپنے جیسی ” ایک ہزار “ چیزوں سے زیادہ بہتر ہو “۔
اس کی سند کا مدار ، اسامہ بن زید بن اسلم ، نامی راوی پر ہے اور وہ بہت زیادہ ضعیف ہے ۔