حدیث نمبر: 226
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْمُؤْمِنُونَ فِي الدُّنْيَا عَلَى ثَلَاثَةِ أَجْزَاءٍ : الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَالَّذِي يَأْمَنُهُ النَّاسُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ ، ثُمَّ الَّذِي إِذَا أَشْرَفَ لَهُ طَمَعٌ تَرَكَهُ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ دَرَّاجٌ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” دنیا میں مومنین تین قسم کے ہوتے ہیں ( پہلی قسم ) وہ لوگ ، جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں اور پھر کسی شک کا شکار نہیں ہوتے ہیں ، وہ اپنے اموال اور جانوں کے ہمراہ اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کرتے ہیں ( دوسری قسم ) وہ لوگ کہ (دوسرے ) لوگ اپنے اموال اور جانوں کے حوالے سے اُن سے محفوظ ہوں اور پھر ( تیسری قسم ) وہ لوگ کہ جب اُن کے سامنے لالچ کی کوئی چیز آ جائے ، تو وہ اللہ تعالی کی خاطر اسے ترک کر دیتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ” دراج “ ہے ، جس کو یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 226
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 3/8 اورده المؤلف فى زوائد المسند 74»