مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ الصَّلَاةِ بِالنَّعْلَيْنِ . باب: جوتوں میں نماز ادا کرنا
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَخَلَعَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ نِعَالَهُمْ ، فَخَلَعَ الصَّفُّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ أَيْضًا نِعَالَهُمْ فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لِمَ خَلَعْتُمْ نِعَالَكُمْ ؟ " قَالُوا : خَلَعْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَخَلَعَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيكَ نِعَالَهُمْ فَخَلَعْنَا نِعَالَنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَذَكَرَ أَنَّ فِي نَعْلَيَّ قَذِرًا فَخَلَعْتُهُمَا ، فَصَلُّوا فِي نِعَالِكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھاتے ہوئے اپنے جوتے اتار دیے آپ اس وقت نماز کی حالت میں تھے آپ کے پیچھے والی صف کے لوگوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیے اس کے پیچھے والی صف کے لوگوں نے بھی جوتے اتار دیے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو آپ نے دریافت کیا : تم لوگوں نے اپنے جوتے کیوں اتار دیے تھے ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے اتارے تھے ، تو آپ کے بعد والی صف والوں نے اتار دیے تو ہم نے بھی اتار دیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جبرئیل میرے پاس آئے اور انہوں نے یہ بات ذکر کی کہ میرے جوتوں پر گندگی لگی ہوئی تھی ، تو میں نے انہیں اتار دیا تم لوگ اپنے جوتوں میں نماز ادا کر لو !
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ربیع بن بدر ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔