مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ الصَّلَاةِ بِالنَّعْلَيْنِ . باب: جوتوں میں نماز ادا کرنا
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : لَمْ يَخْلَعِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَعْلَيْهِ فِي الصَّلَاةِ إِلَّا مَرَّةً فَخَلَعَ الْقَوْمُ نِعَالَهُمْ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لِمَ خَلَعْتُمْ نِعَالَكُمْ ؟ " قَالُوا : رَأَيْنَاكَ خَلَعْتَ فَخَلَعْنَا فَقَالَ : " إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَخْبَرَنِي أَنَّ فِيهِمَا قَذَرًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے دوران اپنے جوتے صرف ایک مرتبہ اتارے تھے ( آپ کو دیکھ کر ) لوگوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیے ( نماز کے بعد ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم لوگوں نے اپنے جوتے کیوں اتارے ہیں ؟ لوگوں نے عرض کی : ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اتار دیے ہیں تو ہم نے بھی اتار دیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جبرائیل نے مجھے بتایا تھا کہ ان پر گندگی لگی ہوئی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں اسے امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ۔