حدیث نمبر: 2259
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : خَلَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَعْلَيْهِ فَخَلَعَ مَنْ خَلْفَهُ فَقَالَ : " مَا حَمَلَكُمْ أَنْ خَلَعْتُمْ نِعَالَكُمْ ؟ " قَالُوا : رَأَيْنَاكَ خَلَعْتُ فَخَلَعْنَا فَقَالَ : " إِنْ جِبْرِيلَ أَخْبَرَنِي أَنَّ فِيهِمَا قَذِرًا فَخَلَعْتُهُمَا لِذَلِكَ ، فَلَا تَخْلَعُوا نِعَالَكُمْ " ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ : فَكَانُوا لَا يَخْلَعُونَ نِعَالَهُمْ قَالَ : وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ قَالَ الْبَزَّارُ : لَا نَعْلَمُ رَوَاهُ هَكَذَا إِلَّا أَبُو حَمْزَةَ انْتَهَى ، وَأَبُو حَمْزَةَ هُوَ مَيْمُونٌ الْأَعْوَرُ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتے اتار دیے تو آپ کے پیچھے موجود لوگوں نے بھی جوتے اتار دیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم لوگوں نے اپنے جوتے کیوں اتارے ہیں ؟ لوگوں نے عرض کی : ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اتارے ہیں تو ہم نے بھی اتار دیے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جبرائیل نے مجھے یہ بتایا ہے کہ ان میں گندگی لگی ہوئی تھی میں نے اس وجہ سے انہیں اتار دیا تھا تم لوگ اپنے جوتے نہ اتارو ! راوی بیان کرتے ہیں : ابراہیم نخعی فرماتے ہیں : لوگ اپنے جوتے نہیں اتارا کرتے تھے راوی بیان کرتے ہیں : میں نے ابراہیم نخعی کو جوتے پہن کر نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے امام بزار بیان کرتے ہیں : ہمارے علم کے مطابق اس روایت کو اس طرح صرف ابوحمزہ نے نقل کیا ہے ان کی بات یہاں ختم ہو گئی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) ابوحمزہ نامی راوی میمون اعور ہے ، اور ” ضعیف“ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2259
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف، اس کا راوی میمون بن صاحب