مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ الصَّلَاةِ بِالنَّعْلَيْنِ . باب: جوتوں میں نماز ادا کرنا
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى بِالنَّاسِ فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ، فَلَمَّا حَسَّ بِهِ النَّاسُ خَلَعُوا نِعَالَهُمْ ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ : " إِنَّ الْمَلَكَ أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّ بِنَعْلَيَّ أَذًى ، فَإِذَا جَاءَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَقْلِبْ نَعْلَيْهِ فَإِنْ رَأَى فِيهِمَا شَيْئًا فَلْيَمْسَحْهُمَا ثُمَّ يُصَلِّي فِيهِمَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : " ثُمَّ لِيُصَلِّ فِيهِمَا أَوْ لِيَخْلَعْهُمَا إِنْ بَدَا لَهُ " وَفِي إِسْنَادِهِمَا عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ الْبَصْرِيُّ ، سَكَنَ مَكَّةَ ، ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھاتے ہوئے اپنے جوتے اتار دیے جب لوگوں کو یہ بات محسوس ہوئی ، تو انہوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیے جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا : فرشتہ میرے پاس آیا اور اس نے مجھے یہ بتایا : میرے جوتوں پر گندگی لگی ہوئی ہے ، جب کوئی شخص مسجد میں آئے تو وہ اپنا جوتا پلٹ کر دیکھ لے اگر اسے ان میں سے کوئی چیز نظر آئے تو انہیں پونچھ لے اور پھر اس میں نماز ادا کر لے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” پھر وہ ان دونوں میں نماز ادا کر لے یا اگر اسے مناسب لگے ، تو انہیں اتار دے “ ۔ ان دونوں کی سند میں ایک راوی عباد بن کثیر بصری ہے ، جس نے مکہ میں رہائش اختیار کی تھی اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔