مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ الْأَعْذَارِ فِي تَرْكِ الْجَمَاعَةِ . باب: جماعت ترک کرنے کے مختلف عذر
وَعَنْ نُعَيْمِ بْنِ النَّحَّامِ قَالَ : نُودِيَ بِالصُّبْحِ فِي يَوْمٍ بَارِدٍ وَأَنَا فِي مِرْطِ امْرَأَتِي فَقُلْتُ : لَيْتَ الْمُنَادِيَ قَالَ : وَمَنْ قَعَدَ فَلَا حَرَجَ فَإِذَا مُنَادِي النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي آخِرِ أَذَانِهِ قَالَ : وَمَنْ قَعَدَ فَلَا حَرَجَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فَلَمَّا قَالَ : الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ قَالَ : وَمَنْ قَعَدَ فَلَا حَرَجَ . ¤ رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ الْمَدَنِيِّ ، وَرِوَايَتُهُ عَنْ أهْلِ الْحِجَازِ مَرْدُودَةٌ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ ، رِجَالُهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا نعیم بن نحام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سردی کے موسم میں ایک دن صبح کی نماز کے لئے اذان دی گئی میں اس وقت اپنی اہلیہ کے ساتھ لحاف میں موجود تھا میں نے سوچا کاش مؤذن یہ کہے کہ جو شخص بیٹھا رہے ( یعنی با جماعت نماز میں شریک : ہو ) تو کوئی حرج نہیں ہے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا منادی اذان کے آخر میں پہنچا تو اس نے یہ کہا: کہ جو شخص بیٹھا ہے ، تو کوئی حرج نہیں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : جب اس نے الصلاۃ خير من النوم پڑھا تو پھر یہ کہا: جو شخص بیٹھا رہے ، تو کوئی حرج نہیں ہے ۔ یہ روایت اسماعیل بن عیاش نے یحیی بن سعید انصاری مدنی کے حوالے سے نقل کی ہے اہل حجاز سے اس کی نقل کردہ روایات مردود ہیں یہ روایت امام طبرانی نے ایک اور سند کے ساتھ نقل کی ہے ، جس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔