کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جماعت ترک کرنے کے مختلف عذر
حدیث نمبر: 2186
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : لَمْ يُرَخَّصْ فِي تَرْكِ الْجَمَاعَةِ إِلَّا لِخَائِفٍ أَوْ مَرِيضٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ عَطِيَّةَ الْبَاهِلِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جماعت ترک کرنے کی رخصت صرف اس شخص کو دی گئی ہے ، جو خوف کا شکار ہو یا جو بیمار ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن عطیہ باہلی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2186
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2187
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا حَضَرَ الْعَشَاءُ وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ وَالْعَشَاءُ فَابْدَؤُوا بِالْعَشَاءِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ عَنْهُمَا، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَأَحْمَدُ وَابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَاتٍ عَنْهُمَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب رات کا کھانا آ جائے ، نماز اور کھانا اکھٹے آ جائیں تو پہلے تم کھانا کھا لو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن عقبہ ہے ، جسے ایک روایت کے مطابق امام أحمد نے اور یحیی بن معین نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اسے امام نسائی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور ایک روایت کے مطابق امام أحمد اور یحیی بن معین نے بھی ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2187
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2188
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا حَضَرَ الْعَشَاءُ وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَابْدَؤُوا بِالْعَشَاءِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ سَمِعَ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب رات کا کھانا آ جائے اور نماز کا وقت بھی ہو گیا ہو تو پہلے کھانا کھا لو “ ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں انہوں نے ایک دوسرے سے سماع کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2188
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 2189
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَهُ قَالَ : " إِذَا حَضَرَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَابْدَؤُوا بِالْعَشَاءِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ” مرفوع “ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب رات کا کھانا آ جائے اور عشاء کی نماز کھڑی ہو چکی ہو تو پہلے کھانا کھا لو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2189
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 2190
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا حَضَرَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَابْدَؤُوا بِالْعَشَاءِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب رات کا کھانا آ جائے اور رات کی نماز کھڑی ہو چکی ہو ، تو پہلے کھانا کھا لو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عمرو بجلی ہے ، جسے ابوحاتم نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2190
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «المعجم الاوسط للطبراني باب العين باب الميم من اسمه محمد 7593»
حدیث نمبر: 2191
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَأَحَدُكُمْ صَائِمٌ فَلْيَبْدَأْ بِالْعَشَاءِ قَبْلَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ وَلَا تُعَجِّلُوا عَنْ عَشَائِكُمْ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ : "وَأَحَدُكُمْ صَائِمٌ" . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب نماز کھڑی ہو چکی ہو اور کسی شخص نے روزہ رکھا ہو تو اسے مغرب کی نماز سے پہلے کھانا کھا لینا چاہیے تم اپنے رات کے کھانے کے حوالے سے تاخیر نہ کرو “ ۔ میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں منقول ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” اور تم میں سے کوئی ایک شخص روزہ دار ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2191
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 2192
وَعَنْ سَمُرَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ : " الصَّلَاةُ فِي الرِّحَالِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ وَزَادَ : "كَرَاهِيَةَ أَنْ يَشُقَّ عَلَيْنَا" وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر بارش کے دن یہ ارشاد فرمایا : نماز رہائشی جگہ پر ادا کی جائے گی ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” آپ نے اس بات کو ناپسند کیا کہ آپ ہمیں مشقت کا شکار کریں “ ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2192
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 2193
وَعَنْ نُعَيْمِ بْنِ النَّحَّامِ قَالَ : سَمِعْتُ مُؤَذِّنَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ وَأَنَا فِي لِحَافِي فَتَمَنَّيْتُ أَنْ يَقُولَ : صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ فَلَمَّا بَلَغَ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ قَالَ : صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ ، ثُمَّ سَأَلْتُ عَنْهَا فَإِذَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمْرَهُ بِذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نعیم بن نحام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک سرد رات میں ، جب میں لحاف میں موجود تھا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن کو سنا تو میں نے یہ آرزو کی کہ وہ یہ کہے : تم لوگ اپنی رہائشی جگہ پر ہی نماز ادا کر لو جب مؤذن نے حی علی الفلاح کہا: تو اس کے بعد اس نے یہ کہا: تم لوگ اپنی رہائشی جگہ پر نماز ادا کر لو بعد میں ، میں نے اس بارے میں دریافت کیا : تو پتہ چلا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤذن کو اس بات کا حکم دیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2193
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2194
وَعَنْ نُعَيْمِ بْنِ النَّحَّامِ قَالَ : نُودِيَ بِالصُّبْحِ فِي يَوْمٍ بَارِدٍ وَأَنَا فِي مِرْطِ امْرَأَتِي فَقُلْتُ : لَيْتَ الْمُنَادِيَ قَالَ : وَمَنْ قَعَدَ فَلَا حَرَجَ فَإِذَا مُنَادِي النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي آخِرِ أَذَانِهِ قَالَ : وَمَنْ قَعَدَ فَلَا حَرَجَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فَلَمَّا قَالَ : الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ قَالَ : وَمَنْ قَعَدَ فَلَا حَرَجَ . ¤ رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ الْمَدَنِيِّ ، وَرِوَايَتُهُ عَنْ أهْلِ الْحِجَازِ مَرْدُودَةٌ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ ، رِجَالُهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نعیم بن نحام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سردی کے موسم میں ایک دن صبح کی نماز کے لئے اذان دی گئی میں اس وقت اپنی اہلیہ کے ساتھ لحاف میں موجود تھا میں نے سوچا کاش مؤذن یہ کہے کہ جو شخص بیٹھا رہے ( یعنی با جماعت نماز میں شریک : ہو ) تو کوئی حرج نہیں ہے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا منادی اذان کے آخر میں پہنچا تو اس نے یہ کہا: کہ جو شخص بیٹھا ہے ، تو کوئی حرج نہیں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : جب اس نے الصلاۃ خير من النوم پڑھا تو پھر یہ کہا: جو شخص بیٹھا رہے ، تو کوئی حرج نہیں ہے ۔ یہ روایت اسماعیل بن عیاش نے یحیی بن سعید انصاری مدنی کے حوالے سے نقل کی ہے اہل حجاز سے اس کی نقل کردہ روایات مردود ہیں یہ روایت امام طبرانی نے ایک اور سند کے ساتھ نقل کی ہے ، جس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2194
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف، لكن الحديث صحيح بشواهده (إسنادہ الأول ضعیف؛ کیونکہ اسماعیل بن عیاش کی اہلِ حجاز سے روایت مردود ہے، البتہ دوسری سند صحیح ہے؛ کیونکہ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔)
حدیث نمبر: 2195
وَعَنْ نُعَيْمِ بْنِ النَّحَّامِ قَالَ : كُنْتُ مَعَ امْرَأَتِي فِي مِرْطِهَا فِي غَدَاةٍ بَارِدَةٍ فَنَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِصَلَاةِ الْفَجْرِ فَلَمَّا سَمِعْتُهُ قُلْتُ : لَيْتَ أَنَّهُ يَقُولُ : مَنْ قَعَدَ فَلَا حَرَجَ فَلَمَّا قَالَ : الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ قَالَ : وَمَنْ قَعَدَ فَلَا حَرَجَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ خَلَا شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ وُهَيْبٍ الْعَزِّيُّ فَإِنِّي لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نعیم بن نحام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اپنی اہلیہ کے ساتھ لحاف میں موجود تھا یہ ایک سردی کی صبح تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے فجر کے لئے اذان دینا شروع کی ، جب میں نے اسے سنا تو میں نے سوچا کہ کاش یہ کہے کہ جو شخص بیٹھا ہے ، تو کوئی حرج نہیں ہے ، جب اس نے الصَّلَاةُ خَيْرَ مِنَ النَّوْمِ کہہ دیا تو اس نے یہ کہا: جو شخص بیٹھا رہے ، تو کوئی حرج نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے صرف امام طبرانی کے استاد عبداللہ بن وہیب عزی کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2195
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2196
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ قَالَ : أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ مُنَادِيَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ قَامَتِ الصَّلَاةُ أَوْ حِينَ حَانَتِ الصَّلَاةُ أَوْ نَحْوَهَا : أَنْ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ لِمَطَرٍ كَانَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عمرو بن اوس بیان کرتے ہیں : مجھے اس صحابی نے یہ بات بتائی جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی کو سنا تھا کہ جب اس نے نماز کے لئے اقامت کہی یا جب نماز کا وقت ہوا ( راوی کو شک ہے یا شاید اس کی مانند کوئی اور الفاظ ہیں ) تو اس نے کہا: تم لوگ اپنی رہائشی جگہ پر نماز ادا کر لو اس نے بارش کی وجہ سے ایسا کہا: تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2196
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔