حدیث نمبر: 2195
وَعَنْ نُعَيْمِ بْنِ النَّحَّامِ قَالَ : كُنْتُ مَعَ امْرَأَتِي فِي مِرْطِهَا فِي غَدَاةٍ بَارِدَةٍ فَنَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِصَلَاةِ الْفَجْرِ فَلَمَّا سَمِعْتُهُ قُلْتُ : لَيْتَ أَنَّهُ يَقُولُ : مَنْ قَعَدَ فَلَا حَرَجَ فَلَمَّا قَالَ : الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ قَالَ : وَمَنْ قَعَدَ فَلَا حَرَجَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ خَلَا شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ وُهَيْبٍ الْعَزِّيُّ فَإِنِّي لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا نعیم بن نحام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اپنی اہلیہ کے ساتھ لحاف میں موجود تھا یہ ایک سردی کی صبح تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے فجر کے لئے اذان دینا شروع کی ، جب میں نے اسے سنا تو میں نے سوچا کہ کاش یہ کہے کہ جو شخص بیٹھا ہے ، تو کوئی حرج نہیں ہے ، جب اس نے الصَّلَاةُ خَيْرَ مِنَ النَّوْمِ کہہ دیا تو اس نے یہ کہا: جو شخص بیٹھا رہے ، تو کوئی حرج نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے صرف امام طبرانی کے استاد عبداللہ بن وہیب عزی کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2195
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف