مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ صَلَّى فِي بَيْتِهِ ثُمَّ وَجَدَ النَّاسَ يُصَلُّونَ فِي الْمَسْجِدِ . باب: جو شخص اپنے گھر میں نماز ادا کر لے اور پھر وہ لوگوں کو مسجد میں نماز ادا کرتے ہوئے پائے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : أَبْصَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلَيْنِ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ فِي أُخْرَيَاتِ النَّاسِ فَأَمَرَ بِهِمَا فَجِيءَ بِهِمَا تُرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا فَقَالَ : " مَا مَنَعَكُمَا مِنَ الصَّلَاةِ مَعَنَا ؟ " قَالَا : صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا قَالَ : " أَفَلَا صَلَّيْتُمْ مَعَنَا ، فَتَكُونُ تَطَوُّعًا وَتَكُونُ الْأُولَى هِيَ الْفَرِيضَةُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَقَالَ : هَكَذَا رَوَاهُ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، وَخَالَفَ النَّاسُ فِي إِسْنَادِهِ ، وَرَوَاهُ شُعْبَةُ وَأَبُو عَوَانَةَ وَهُشَيْمٌ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ ذِي حِمَايَةَ وَالثَّوْرِيُّ وَهِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ السُّوَائِيِّ . ¤ قُلْتُ : وَرِجَالُ إِسْنَادِ الْحَدِيثِ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ الْحَجَّاجَ مُدَلِّسٌ وَقَدْ عَنْعَنَهُ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد خیف میں دو افراد کو ملاحظہ فرمایا کہ وہ دو دونوں لوگوں کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت انہیں بلایا گیا تو ان کے اعضاء کانپ رہے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم دونوں نے ہمارے ساتھ نماز ادا کیوں نہیں کی ؟ انہوں نے عرض کی : ہم اپنی رہاشی جگہ پر نماز ادا کر چکے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم ہمارے ساتھ نماز ادا نہیں کر سکتے تھے وہ نفل ہو جاتیں اور پہلے والی فرض رہتی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ بات بیان کی ہے کہ حجاج بن ارطاۃ نے یعلی بن عطاء کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے اس روایت کو اسی طرح نقل کیا ہے ، اور لوگوں نے اس کی سند مختلف نقل کی ہے ، اس روایت کو شعبہ ابوعوانہ ہشیم ابراہیم بن ذی حمایہ ثوری اور ہشام بن حسان نے یعلی بن عطاء کے حوالے سے عطاء کے حوالے سے سیدنا جابر بن یزید بن اسود سوائی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں : اس حدیث کی سند کے رجال ” ثقہ “ ہیں البتہ حجاج نامی راوی تدلیس کرنے والا ہے ، اور اس نے عنعنہ کے ساتھ یہ روایت نقل کی ہے ۔