حدیث نمبر: 2174
وَعَنِ ابْنِ أَبِي الْخَرِيفِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ : أَتَيْتُ أَنَا وَأَخِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ وَقَدْ صَلَّيْنَا الْمَكْتُوبَةَ فِي الْبَيْتِ فَلَمْ نُصَلِّ مَعَهُمْ فَقَالَ : " مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَنَا ؟ " قُلْنَا : قَدْ صَلَّيْنَا الْمَكْتُوبَةَ فِي الْبَيْتِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا صَلَّى الرَّجُلُ الْمَكْتُوبَةَ فِي الْبَيْتِ ثُمَّ أَدْرَكَ جَمَاعَةً فَلْيُصَلِّ مَعَهُمْ تَكُونُ صَلَاتُهُ فِي بَيْتِهِ نَافِلَةً" . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَابْنُ أَبِي الْخَرِيفِ وَأَبُوهُ لَا أَدْرِي مَنْ هُمَا . ¤
محمد محی الدین

ابن ابوخریف ، اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں اور میرا بھائی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ اس وقت مسجد خیف میں موجود تھے ہم فرض نماز گھر میں ادا کر چکے تھے ہم نے لوگوں کے ساتھ نماز ادا نہیں کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم دونوں نے ہمارے ساتھ نماز ادا کیوں نہیں کی ۔ ہم نے عرض کی : ہم گھر میں فرض نماز ادا کر چکے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب کوئی شخص گھر میں فرض نماز ادا کر چکا ہو اور پھر وہ جماعت کو پا لے ، تو وہ لوگوں کے ساتھ بھی نماز ادا کر لے اس نے گھر میں جو نماز ادا کی تھی وہ نفل شمار ہو جائے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ ابن ابوخریف اور اس کے والد کے بارے میں ، میں نہیں جانتا کہ وہ کون ہیں ؟

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2174
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف