حدیث نمبر: 2176
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ قَالَ : رَأَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي بَيْتِهِ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَالْقَوْمُ يُصَلُّونَ فَلْيُصَلِّ مَعَهُمْ تَكُونُ لَهُ نَافِلَةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ زَكَرِيَّا ، فَإِنْ كَانَ هُوَ الْعِجْلِيُّ الْوَاسِطِيُّ فَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَإِنْ كَانَ غَيْرُهُ فَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو مسجد میں بیٹھے ہوئے دیکھا لوگ نماز ادا کر رہے تھے جب آپ نے نماز مکمل کر لی تو آپ نے ارشاد فرمایا : جب کوئی شخص اپنے گھر میں نماز ادا کر چکا ہو اور پھر وہ مسجد میں آئے اور لوگ اس وقت نماز ادا کر رہے ہوں تو اس شخص کو ان لوگوں کے ساتھ نماز ادا کرنی چاہیے یہ نماز اس کے لئے نفل ہو جائے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن زکریا ہے اگر تو وہ علی واسطی ہے ، تو پھر وہ ضعیف ہے ، اور اگر وہ اس کے علاوہ کوئی اور ہے ، تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2176
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف