مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ التَّشْدِيدِ فِي تَرْكِ الْجَمَاعَةِ . باب: نماز ترک کرنے کی شدید مذمت
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِلَالًا فَيُقِيمَ الصَّلَاةَ ، ثُمَّ أَنْصَرِفَ إِلَى قَوْمٍ سَمِعُوا النِّدَاءَ فَلَمْ يُجِيبُوا فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَهُوَ عِنْدَ مُسْلِمٍ بِلَفْظِ " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ ثُمَّ أُحَرِّقُ عَلَى رِجَالٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنِ الْجُمُعَةِ بُيُوتَهُمْ " . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں بلال کو حکم دوں وہ نماز کے لئے اقامت کہے پھر میں ان لوگوں کی طرف جاؤں جنہوں نے اذان سنی تھی اور اس کا جواب نہیں دیا ( یعنی با جماعت نماز میں شریک نہیں ہوئے ) اور پھر میں ان لوگوں سمیت ان کے گھروں کو آگ لگا دوں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں امام مسلم نے یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ نقل کی ہے : ” میں نے یہ ارادہ کیا کہ کسی شخص کو یہ حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے اور پھر ان لوگوں سمیت ان کے گھروں کو آگ لگا دوں جو جمعہ کی نماز میں شریک نہیں ہوئے ہیں “ ۔