حدیث نمبر: 2168
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - - وَكَانَ ضَرِيرَ الْبَصَرِ - فَشَكَا إِلَيْهِ وَسَأَلَهُ أَنْ يُرَخِّصَ لَهُ فِي صَلَاةِ الْعِشَاءِ وَالْفَجْرِ وَقَالَ : إِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَكَ الْمَسِيلَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَلْ تَسْمَعُ الْأَذَانَ ؟ " قَالَ : نَعَمْ، مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ فَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ فِي ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُذْرَةُ بْنُ الْحَارِثِ وَلَا أَعْرِفُهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ان کی بینائی کمزور تھی انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکایت کی اور آپ سے یہ درخواست کی کہ آپ انہیں عشاء اور فجر کی نماز با جماعت میں شریک نہ ہونے ) کی رخصت دے دیں انہوں نے عرض کی : میرے اور آپ کے درمیان نشیبی پانی کی گزرگاہ ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم آذان کی آواز سنتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! یہ مکالمہ ایک یا شاید دو مرتبہ ہوا لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حوالے سے انہیں اجازت نہیں دی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عذرہ بن حارث ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2168
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف