مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ التَّشْدِيدِ فِي تَرْكِ الْجَمَاعَةِ . باب: نماز ترک کرنے کی شدید مذمت
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَوْ أَنَّ رَجُلًا دَعَا النَّاسَ إِلَى عِرْقٍ أَوْ مِرْمَاتَيْنِ لَأَجَابُوهُ ، وَهُمْ يُدْعَوْنَ إِلَى هَذِهِ الصَّلَاةِ فِي جَمَاعَةٍ فَلَا يَأْتُونَهَا ، لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فِي جَمَاعَةٍ ثُمَّ أَنْصَرِفَ إِلَى قَوْمٍ سَمِعُوا النِّدَاءَ فَلَمْ يُجِيبُوا فَأُضْرِمَهَا عَلَيْهِمْ نَارًا ، إِنَّهُ لَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلَّا مُنَافِقٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اگر کوئی شخص لوگوں کو ایک ہڈی یا دو پایوں کی طرف دعوت دے تو یہ وہاں چلے جائیں گے اور ان لوگوں کو نماز با جماعت کی طرف بلایا جاتا ہے ، تو یہ اس میں شریک نہیں ہوتے ہیں میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں کسی شخص کو یہ ہدایت کروں کہ وہ لوگوں کو باجماعت نماز پڑھائے اور پھر میں ان لوگوں کی طرف چلا جاؤں جنہوں نے اذان سنی تھی اور پھر جواب نہیں دیا اور ان کو آگ لگا دوں باجماعت نماز سے کوئی منافق ہی پیچھے رہ سکتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔