مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ التَّشْدِيدِ فِي تَرْكِ الْجَمَاعَةِ . باب: نماز ترک کرنے کی شدید مذمت
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : أَقْبَلَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ - وَهُوَ أَعْمَى وَهُوَ الَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِ " عَبَسَ وَتَوَلَّى أَنْ جَاءَهُ الْأَعْمَى " وَكَانَ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ - إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي وَأُمِّي أَنْتَ كَمَا تَرَانِي قَدْ كَبِرَتْ سِنِّي وَرَقَّ عَظْمِي وَذَهَبَ بَصَرِي وَلِي قَائِدٌ لَا يُلَائِمُنِي قِيَادُهُ إِيَّايَ ، فَهَلْ تَجِدُ لِي رُخْصَةً أُصَلِّي فِي بَيْتَيِ الصَّلَوَاتِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَلْ تَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ فِي الْبَيْتِ الَّذِي أَنْتَ فِيهِ ؟ " قَالَ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا أَجِدُ لَكَ رُخْصَةً ، وَلَوْ يَعْلَمُ هَذَا الْمُتَخَلِّفُ عَنِ الصَّلَاةِ فِي الْجَمَاعَةِ مَا لِهَذَا الْمَاشِي إِلَيْهَا لَأَتَاهَا وَلَوْ حَبْوًا عَلَى يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ عَنِ الْقَاسِمِ وَقَدْ ضَعَّفَهُمَا الْجُمْهُورُ وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِمَا . ¤سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آئے وہ نابینا تھے یہ وہ صاحب ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی تھی : ” اس نے ماتھے پہ بل ڈال لیا اور منہ پھیر لیا جب اس کے پاس نابینا آیا “ ۔ وہ قریش سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب تھے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں جیسا کہ آپ مجھے ملاحظہ فرما رہے ہیں میری عمر زیادہ ہو چکی ہے ہڈیاں کمزور ہو چکی ہیں بینائی رخصت ہو گئی ہے ، اور مجھے ساتھ لے کے چلنے والا بعض اوقات نہیں ملتا ہے ، تو کیا آپ میرے لئے بہ رخصت پاتے ہیں کہ میں اپنے گھر میں ہی نماز ادا کر لیا کروں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : جس گھر میں تم رہتے ہو کیا وہاں تم مؤذن کی آواز سنتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں تمہارے لئے رخصت نہیں پاتا ہوں باجماعت نماز سے پیچھے رہنے والے ان افراد کو اگر یہ پتہ چل جائے کہ ان کے لئے چل کے آنے میں کتنا اجر و ثواب ہے ، تو وہ اس ( با جماعت نماز ) میں ضرور شریک ہوں خواہ انہیں ہاتھوں اور پاؤں کے بل گھسٹ کر آنا پڑے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے ، اسے علی بن یزید الہانی نے قاسم سے روایت کیا ہے جمہور نے ان دونوں راویوں کو ضعیف قرار دیا ہے ، اور ان دونوں سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔