حدیث نمبر: 2166
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ ضَرِيرٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنِّي أَسْمَعُ النِّدَاءَ فَلَعَلِّي لَا أَجِدُ قَائِدًا وَيَشُقُّ عَلَيَّ ، أَفَأَتَّخِذُ مَسْجِدًا فِي دَارِي ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيَبْلُغُكَ النِّدَاءُ " قَالَ : نَعَمْ قَالَ : " فَإِذَا سَمِعْتَ فَأَجِبْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ : " فَأَجِبْ دَاعِيَ اللَّهِ " وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَجَمَاعَةٌ ، وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مَحَلُّهُ الصِّدْقُ ، وَقَالَ الْبُخَارِيُّ : مُقَارِبُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک نابینا شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : میں اذان کی آواز سنتا ہوں لیکن بعض اوقات مجھے ساتھ لے کر چلنے والا نہیں ملتا تو آنا میرے لئے مشکل ہوتا ہے کیا میں اپنے گھر میں نماز کے لئے جگہ مخصوص کر لوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم تک اذان کی آواز آتی ہے ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم اسے سنو تو پھر اس کا جواب دو !
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ان کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” تم اللہ تعالی کی طرف سے دعوت دینے والے کو جواب دو“ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی یزید بن سنان ہے ، جسے امام أحمد اور ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ابوحاتم کہتے ہیں ۔ اس کا محل صدق ہے امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یہ مقارب الحدیث ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2166
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف