مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ التَّشْدِيدِ فِي تَرْكِ الْجَمَاعَةِ . باب: نماز ترک کرنے کی شدید مذمت
وَعَنِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَى الْمَسْجِدَ فَرَأَى فِي الْقَوْمِ رِقَّةً فَقَالَ : " إِنِّي لَأَهُمُّ أَنْ أَجْعَلَ لِلنَّاسِ إِمَامًا ثُمَّ أَخْرُجُ فَلَا أَقْدِرُ عَلَى إِنْسَانٍ يَتَخَلَّفُ عَنِ الصَّلَاةِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا أَحْرَقْتُهُ عَلَيْهِ " فَقَالَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَ الْمَسْجِدِ نَخْلًا وَشَجَرًا وَلَا أَقْدِرُ عَلَى قَائِدٍ كُلَّ سَاعَةٍ ، أَيَسَعُنِي أَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِي ؟ قَالَ : " أَتَسْمَعُ الْإِقَامَةَ ؟ " قَالَ : نَعَمْ قَالَ : "فَأْتِهَا" . ¤ قُلْتُ : عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے آپ نے لوگوں کی تعداد کم دیکھی تو ارشاد فرمایا : میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں کسی کو لوگوں کا امام مقرر کروں اور پھر نکل کھڑا ہوؤں ، اور پھر جس بھی شخص پر ق ابوپاؤں جو نماز کو چھوڑ کر اپنے گھر میں بیٹھا ہوا تھا تو اسے آگ لگا دوں سیدنا ابن ام مکتوم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے اور مسجد کے درمیان کھجور کے درخت اور دوسرے درخت ہوتے ہیں ، اور مجھے ہر وقت ساتھ لے جانے والا نہیں ملتا ہے کیا میرے لئے اس بات کی گنجائش ہے کہ میں اپنے گھر میں نماز ادا کر لوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم اقامت سنتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر تم یہاں آؤ ۔
میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔