حدیث نمبر: 2164
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : أَتَى ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مَنْزِلِي شَاسِعٌ وَأَنَا مَكْفُوفُ الْبَصَرِ وَأَنَا أَسْمَعُ الْأَذَانَ قَالَ : " فَإِنْ سَمِعْتَ الْأَذَانَ فَأَجِبْ وَلَوْ حَبْوًا أَوْ زَحْفًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ مُوَثَّقُونَ كُلُّهُمْ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرا گھر دور ہے ، اور میری بینائی رخصت ہو چکی ہے ، اور میں اذان کی آواز سنتا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تم اذان سنتے ہو ، تو اس کا جواب دو ( یعنی با جماعت نماز میں شریک ہو ) خواہ گھسٹ کر آنا پڑے یا ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل چل کے آنا پڑے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام طبرانی کے تمام رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2164
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔