حدیث نمبر: 2157
وَعَنْ بِلَالٍ الْمُؤَذِّنِ قَالَ : أَذَّنْتُ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ فَلَمْ يَأْتِ أَحَدٌ، ثُمَّ نَادَيْتُ فَلَمْ يَأْتِ أَحَدٌ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَالَهُمْ ؟ " فَقُلْتُ : مَنَعَهُمُ الْبَرْدُ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ احْبِسْ عَنْهُمُ الْبَرْدَ " فَقَالَ بِلَالٌ : فَأَشْهَدُ أَنِّي رَأَيْتُهُمْ يَتَرَوَّحُونَ فِي الصُّبْحِ مِنَ الْحَرِّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ سَيَّارٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا بلال مؤذن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک سرد رات میں ، میں نے اذان دی تو کوئی شخص نہیں آیا پھر میں نے اذان دی تو پھر کوئی نہیں آیا تین مرتبہ ایسا ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : لوگوں کو کیا ہوا ہے ؟ میں نے عرض کی : سردی کی وجہ سے وہ نہیں آ سکے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی : اے اللہ ! ان سے سردی کو روک دے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ خوشگوار موسم میں صبح کی نماز کے لئے آ رہے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن سیار ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2157
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف