مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ وَالصُّبْحِ فِي جَمَاعَةٍ . باب: عشاء کی نماز اور صبح کی نماز باجماعت ادا کرنا
حدیث نمبر: 2156
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ تَوَضَّأَ ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ ثُمَّ جَلَسَ حَتَّى يُصَلِّيَ الْفَجْرَ كُتِبَتْ صَلَاتُهُ يَوْمَئِذٍ فِي صَلَاةِ الْأَبْرَارِ ، وَكُتِبَ فِي وَفْدِ الرَّحْمَنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ الْقَاسِمُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ مُخْتَلَفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص وضو کر کے مسجد آتا ہے ، اور پھر فجر سے پہلے دو رکعات ادا کرتا ہے پھر وہ بیٹھ جاتا ہے یہاں تک کہ فجر کی نماز ادا کرتا ہے ، تو اس کی نماز اس دن میں نیکوکاروں کی نماز میں نوٹ کی جاتی ہے ، اور اس کا شمار رحمان کے ملاقاتیوں ( یعنی مہمانوں ) میں ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قاسم ابوعبدالرحمن ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔