حدیث نمبر: 2158
وَعَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ الْأَزْهَرِ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ : تَزَوَّجَ الْحَارِثُ بْنُ حَسَّانَ ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ ، وَكَانَ الرَّجُلُ إِذْ ذَاكَ إِذَا تَزَوَّجَ تَخَدَّرَ أَيَّامًا فَلَا يَخْرُجُ لِصَلَاةِ الْغَدَاةِ فَقِيلَ لَهُ : أَتَخْرُجُ ؟ ! وَإِنَّمَا بَنَيْتَ بِأَهْلِكَ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ ؟ قَالَ : وَاللَّهِ إِنَّ امْرَأَةً تَمْنَعُنِي مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ فِي جَمْعٍ لَامْرَأَةُ سُوءٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

عنبسہ بن ازہر ، سماک کا بیان نقل کرتے ہیں : سیدنا حارث بن حسان رضی اللہ عنہ نے شادی کی انہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل تھا تب یہ معمول تھا کہ جب کوئی شخص شادی کرتا تھا تو وہ کچھ دن تک صبح کی نماز با جماعت ادا کرنے کے لئے نہیں آیا کرتا تھا ان سے دریافت کیا گیا کیا آپ ( با جماعت نماز کی ادائیگی کے لیے ) جائیں گے جب کہ گزشتہ رات آپ نے اپنی اہلیہ کی رخصتی کروائی ہے ، تو انہوں نے فرمایا : اللہ کی قسم ! جو عورت مجھے صبح کی نماز با جماعت ادا کرنے سے روکے گی وہ تو بری عورت ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2158
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔