مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ انْتِظَارِ الصَّلَاةِ . باب: نماز کا انتظار کرنا
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ يَبْلُغُ بِالْحَدِيثِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا كَانَتِ الصَّلَاةُ تَحْبِسُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى الْخَزَّازُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الطَّهَارَةِ أَحَادِيثُ فِي إِسْبَاغِ الْوُضُوءِ تَدُلُّ عَلَى فَضِيلَةِ انْتِظَارِ الصَّلَاةِ وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي التَّعْيِينِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى . ¤سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ان تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان پہنچا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم میں سے کوئی ایک شخص مسلسل نماز کی حالت میں شمار ہوتا ہے ، جب تک نماز نے اسے روکا ہوا ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور امام بزار نے بھی نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عیسیٰ خزاز ہے اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے طہارت سے متعلق باب میں اچھی طرح وضو کرنے سے متعلق احادیث گزر چکی ہیں جو نماز کا انتظار کرنے کی فضیلت پر دلالت کرتی ہیں ، اور تعیین سے متعلق باب میں کچھ احادیث آگے آئیں گی اگر اللہ نے چاہا ۔