حدیث نمبر: 2131
وَعَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الثَّقَفِيِّ قَالَ : خَرَجَ مُعَاوِيَةُ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ فَقَالَ : مَكَانَكُمْ حَتَّى آتِيَكُمْ فَخَرَجَ عَلَيْنَا وَقَدْ تَرَدَّى فَلَمَّا صَلَّى الْعَصْرَ قَالَ : أَلَا أُحَدِّثُكُمْ شَيْئًا فَعَلَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قُلْنَا : بَلَى قَالَ : فَإِنَّهُمْ صَلَّوْا مَعَهُ الْأُولَى ثُمَّ جَلَسُوا فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ : " مَا بَرِحْتُمْ بَعْدُ ؟ " قَالُوا : لَا قَالَ : " لَوْ رَأَيْتُمْ رَبَّكُمْ فَتَحَ بَابًا مِنَ السَّمَاءِ فَأَرَى مَجْلِسَكُمْ مَلَائِكَتَهُ يُبَاهِي بِكُمْ وَأَنْتُمْ تَرْقُبُونَ الصَّلَاةَ " . ¤ قُلْتُ : لِمُعَاوِيَةَ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ فِيمَنْ جَلَسَ يَذْكُرُ اللَّهَ وَلَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ انْتِظَارِ الصَّلَاةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرَوَاهُ أَيْضًا مِنْ رِوَايَةِ أَبِي أُمَيَّةَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ : خَرَجَ مُعَاوِيَةُ وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ أَيْضًا وَأَبُو أُمَيَّةَ الثَّقَفِيُّ لَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین

ابوامیہ ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ظہر کی نماز کے وقت نکلے اور انہوں نے فرمایا : تم لوگ اپنی نماز کی جگہ پر رہو یہاں تک کہ میں تمہارے پاس آ جاؤں پھر وہ ہمارے پاس تشریف لائے جب انہوں نے عصر کی نماز ادا کر لی تو انہوں نے فرمایا : کیا میں تم لوگوں کو ایک ایسی چیز کے بارے میں نہ بتاؤں جو اللہ کے رسول کے اصحاب نے کی تھی ہم نے عرض کی : جی ہاں ! تو انہوں نے فرمایا : ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پہلی ( یعنی ظہر کی ) نماز ادا کی پھر وہ حضرات بیٹھے رہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور دریافت کیا : کیا تم اس کے بعد اسی حالت میں ہو ؟ لوگوں نے عرض کی : ہاں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کاش کہ تم اپنے پروردگار کو دیکھتے کہ اس نے آسمان سے دروازہ کھولا اور فرشتوں کو تمہارا بیٹھنا دکھایا اور تم پر فخر کا اظہار کیا جب کہ تم نماز کا انتظار کر رہے تھے “ ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک حدیث ” صحیح “ میں منقول ہے ، جو اس شخص کے بارے میں ہے ، جو اللہ کا ذکر کرنے کے لئے بیٹھتا ہے ، اس میں نماز کا انتظار کرنے کا ذکر نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے انہوں نے اسے ابوامیہ کے حوالے سے ایک شخص کے حوالے سے اس کے چچا سے نقل کیا ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے ابوامیہ ثقفی نامی راوی کا ذکر کرتے ہوئے میں نے کسی کو بھی نہیں پایا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2131
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «المعجم الكبير للطبرانى باب الميم من اسمه محمود . ابو امية الثقفى 16622»