مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ انْتِظَارِ الصَّلَاةِ . باب: نماز کا انتظار کرنا
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : طَعِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِ الْعَبَّاسِ أَوْ فِي بَيْتِ حَمْزَةَ فَقَالَ : " لَيَتَخَوَّضَنَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ لَا يَكُنْ لَهُمْ حَظٌّ غَيْرُهُ ، وَكَفَّارَاتُ الْخَطَايَا إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَإِسْنَادُهُ صَحِيحٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے گھر میں یا شاید سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں کھانا کھایا اور ارشاد فرمایا : ” میری امت سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ اس چیز کے بارے میں غور و فکر کر رہے ہیں ( یعنی اس مال کو حاصل کرنا چاہتے ہیں ) جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مال فئے کے طور پر عطا کیا ہے ، اُن لوگوں کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہے ، اور گناہوں کا کفارہ ( یہ کام ہیں : ) اچھی طرح وضو کرنا زیادہ قدموں کے ساتھ چل کر مسجد کی طرف جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند صحیح ہے ۔