❮
❯
حدیث نمبر: 2130
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : طَعِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِ الْعَبَّاسِ أَوْ فِي بَيْتِ حَمْزَةَ فَقَالَ : " لَيَتَخَوَّضَنَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ لَا يَكُنْ لَهُمْ حَظٌّ غَيْرُهُ ، وَكَفَّارَاتُ الْخَطَايَا إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ " .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَإِسْنَادُهُ صَحِيحٌ .
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے گھر میں یا شاید سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں کھانا کھایا اور ارشاد فرمایا : ” میری امت سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ اس چیز میں ( ناحق ) گھس جائیں گے ( یعنی اس مال کو حاصل کریں گے ) جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مال فئے کے طور پر عطا کیا ہے ، اُن لوگوں کا اس کے علاوہ کوئی حصہ نہیں ہو گا ، اور گناہوں کا کفارہ ( یہ کام ہیں : ) اچھی طرح وضو کرنا زیادہ قدموں کے ساتھ چل کر مسجد کی طرف جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند صحیح ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2130
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح