مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ انْتِظَارِ الصَّلَاةِ . باب: نماز کا انتظار کرنا
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيُكَفِّرُ بِهِ الذُّنُوبَ ؟ " قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : " إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ فِي الْكَرِيهَاتِ - الْمَكْرُوهَاتِ - وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَهُوَ الرِّبَاطُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَلَهُ رِوَايَةٌ بِنَحْوِ هَذَا إِلَّا أَنَّهُ قَالَ بَدَلَ : " فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ " " فَتِلْكَ رِبَاطُ الْجَنَّةِ " وَإِسْنَادُ الْأَوَّلِ فِيهِ شُرَحْبِيلُ بْنُ سَعْدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ الْجُمْهُورِ وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَأَخْرَجَ لَهُ فِي صَحِيحِهِ هَذَا الْحَدِيثَ ، وَإِسْنَادُ الثَّانِي فِيهِ يُوسُفُ بْنُ مَيْمُونٍ الصَّبَّاغُ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَأَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ وَقَالَ الْبَزَّارُ : صَالِحُ الْحَدِيثِ . ¤سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” کیا میں تم لوگوں کی رہنمائی اس چیز کی طرف نہ کروں جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ خطاؤں کو مٹا دیتا ہے ، اور اس کے ذریعے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : طبیعت کو ناگوار گزرنے کے وقت اچھی طرح وضو کرنا زیادہ قدموں کے ساتھ مساجد کی طرف جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ، یہی رباط ( یعنی تیاری یا پہرہ داری ) ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ان صحابی کے حوالے کے حوالے سے ایک اور روایت بھی منقول ہے ، جو اس کی مانند ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ ” یہی رباط ہے “ کی جگہ یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” یہ جنت کا رباط ( یعنی تیاری ) ہے “ ۔ پہلی روایت کی سند میں ایک راوی شرحبیل بن سعد ہے ، اور وہ جمہور کے نزدیک ” ضعیف“ ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” التفات “ میں کیا ہے انہوں نے اپنی ” صحیح “ میں اس کے حوالے سے یہ حدیث نقل کی ہے دوسری روایت کی سند میں ایک راوی یوسف بن میمون صباغ ہے ، جسے ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ابن حبان اور ابو أحمد بن عدی نے اسے ” ثقہ “ کہا: ہے امام بزار فرماتے ہیں : یہ صالح الحدیث ہے ۔