حدیث نمبر: 2128
وَعَنِ امْرَأَةٍ مِنَ الْمُبَايِعَاتِ أَنَّهَا قَالَتْ : جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ مِنْ بَنِيَ سَلَمَةَ فَقَرَّبْنَا إِلَيْهِ طَعَامًا فَأَكَلَ، ثُمَّ قَرَّبْنَا إِلَيْهِ وَضُوءًا فَتَوَضَّأَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمُكَفِّرَاتِ الْخَطَايَا ؟ " قَالُوا : بَلَى قَالَ : " إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ فِيهِمْ مَنْ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین

بیعت کرنے والی ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر اسلام قبول کرنے والی ) خواتین میں سے ایک خاتون بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے آپ کے ساتھ بنو سلمہ سے تعلق رکھنے والے آپ کے اصحاب بھی تھے ہم نے آپ کی خدمت میں کھانا پیش کیا آپ نے کھانا کھایا پھر ہم نے آپ کی خدمت میں وضو کا پانی پیش کیا آپ نے وضو کیا پھر آپ اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں گناہوں کا کفارہ بننے والی چیزوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : طبیعت کو ناگوار گزرنے کے وقت اچھی طرح وضو کرنا زیادہ قدموں کے ساتھ ساجد کی طرف جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کے رجال میں ایک شخص ایسا بھی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2128
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف