حدیث نمبر: 211
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ أَفْضَلِ الْإِيمَانِ . قَالَ : " أَنْ تُحِبَّ لِلَّهِ ، وَتُبْغِضَ لَهُ ، وَتُعْمِلَ لِسَانَكَ فِي ذِكْرِ اللَّهِ " . قَالَ : وَمَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَأَنْ تُحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ ، وَتَكْرَهُ لَهُمْ مَا تَكْرَهُ لِنَفْسِكَ ، وَأَنْ تَقُولَ خَيْرًا أَوْ تَصْمُتَ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ بَعْضَهُ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ ابْنُ لَهِيعَةَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل ایمان کے بارے میں سوال کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( اس سے مراد ہے ) کہ تم ( کسی کے ساتھ ) اللہ تعالیٰ کے لئے محبت رکھو اور اُس کے لیے بغض رکھو ! اور اپنی زبان کو اللہ تعالیٰ کی یاد والا عمل کرواؤ ! اُنہوں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ یہ کیسے ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( اس سے مراد یہ ہے : ) کہ تم لوگوں کے لیے اس چیز کو پسند کرو جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو اور ان کے لیے وہی چیز ناپسند کرو جو تم اپنے لیے ناپسند کرتے ہو ، اور تم بھلائی کی بات کہو ! ورنہ خاموش رہو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس روایت کا کچھ حصہ اس سیاق کے بغیر نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 211
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 247/5 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 191/20»