مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي نِيَّةِ الْمُؤْمِنِ وَعَمَلِ الْمُنَافِقِ . باب: مؤمن کی نیت اور منافق کے عمل کا بیان
حدیث نمبر: 212
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نِيَّةُ الْمُؤْمِنِ خَيْرٌ مِنْ عَمَلِهِ ، وَعَمَلُ الْمُنَافِقِ خَيْرٌ مِنْ نِيَّتِهِ ، وَكُلٌّ يَعْمَلُ عَلَى نِيَّتِهِ ، فَإِذَا عَمِلَ الْمُؤْمِنُ عَمَلًا ثَارَ فِي قَلْبِهِ نُورٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، إِلَّا حَاتِمَ بْنَ عِبَّادِ بْنِ دِينَارٍ الْجُرَشِيُّ ، لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَ لَهُ تَرْجَمَةً . ¤محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مؤمن کی نیت ، اُس کے عمل سے بہتر ہوتی ہے اور منافق کا عمل اس کی نیت سے بہتر ہوتا ہے ، ہر شخص اپنی نیت کے مطابق عمل کرتا ہے ، لیکن جب مؤمن کوئی عمل کرتا ہے ، تو اس کے دل میں نور پھیل جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے صرف حاتم بن عماد بن دینار جرشی کا معاملہ مختلف ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔