کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: کون ساعمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟ اور کون سا دین اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے؟
حدیث نمبر: 199
عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الْإِسْلَامُ ؟ قَالَ : " أَنْ يُسْلِمَ قَلْبُكَ ، وَأَنْ يَسْلَمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِكَ وَيَدِكَ " . قَالَ : فَأَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " الْإِيمَانُ " . قَالَ : وَمَا الْإِيمَانُ ؟ قَالَ : " أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ " . قَالَ : فَأَيُّ الْإِيمَانِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " الْهِجْرَةُ " . قَالَ : مَا الْهِجْرَةُ ؟ قَالَ : " أَنْ تَهْجُرَ السُّوءَ " . قَالَ : فَأَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " الْجِهَادُ " . قَالَ : وَمَا الْجِهَادُ ؟ قَالَ : " أَنْ تُقَاتِلَ الْكُفَّارَ إِذَا لَقِيتَهُمْ " . قَالَ : فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ ، وَأُهْرِيقَ دَمُهُ " . ¤ قُلْتُ : وَهُوَ يَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي فَضْلِ الْحَجِّ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اسلام سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ کہ تمہارا دل فرمانبردار ہو ، اور تمہاری زبان اور ہاتھ سے ( دوسرے ) مسلمان محفوظ ہوں ، اس شخص نے دریافت کیا : کون سا اسلام زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایمان ، اُس نے دریافت کیا : ایمان سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ کہ تم اللہ تعالیٰ اس کے فرشتوں ، اُس کی کتابوں ، اُس کے رسولوں ، اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے پر ایمان رکھو ! اس شخص نے دریافت کیا : کون سا ایمان زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہجرت ، اُس نے دریافت کیا : ہجرت سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ کہ تم برائی سے لاتعلق ہو جاؤ ! اُس نے دریافت کیا : کہ کون سی ہجرت زیادہ فضیلت رکھتی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جہاد ، اُس نے دریافت کیا : جہاد سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ جب تمہارا کفار سے سامنا ہو ، تو تم اُن کے ساتھ جنگ کرو ! اُس نے دریافت کیا : کون سا جہاد زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس میں گھوڑے کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں اور آدمی کا خون بہا دیا جائے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت آگے چل کر ، جج کی فضیلت سے متعلق باب میں ، مکمل روایت کے طور پر آئے گی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے اور اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 199
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 114/4 أورده المؤلف فى زوائد المسند 85»
حدیث نمبر: 200
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ سَمِعَ الْقَوْمَ وَهُمْ يَقُولُونَ : أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِيمَانٌ بِاللَّهِ ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَحَجٌّ مَبْرُورٌ " ، ثُمَّ سَمِعَ نِدَاءً فِي الْوَادِي يَقُولُ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَأَنَا أَشْهَدُ وَأَشْهَدُ أَلَّا يَشْهَدَ بِهَا أَحَدٌ إِلَّا بَرِئَ مِنَ الشِّرْكِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتے ہوئے جا رہے تھے کہ اسی دوران آپ نے کچھ لوگوں کو سنا ، جو یہ کہہ رہے تھے : یا رسول اللہ ! کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی پر ایمان رکھنا ، اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور مبرور حج ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی میں کسی شخص کو بلند آواز میں یہ کہتے ہوئے سنا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ جو شخص اس کلمے کے حوالے سے گواہی دے گا ، وہ شرک سے لاتعلق ہو جائے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور امام أحمد کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 200
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 451/5 أورده المؤلف فى زوائد المسند 82»
حدیث نمبر: 201
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ - رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ - أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " إِيمَانٌ بِاللَّهِ ، وَتَصْدِيقٌ بِهِ ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ ، وَحَجٌّ مَبْرُورٌ " . قَالَ : أُرِيدُ أَهْوَنَ مِنْ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " السَّمَاحَةُ وَالصَّبْرُ " قَالَ : أُرِيدُ أَهْوَنَ مِنْ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " لَا تَتَّهِمِ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فِي شَيْءٍ قَضَى لَكَ بِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ ابْنُ لَهِيعَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اُس نے دریافت کیا : اے اللہ کے نبی ! کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی پر ایمان رکھنا ، اُس کی تصدیق کرنا ، اُس کی راہ میں جہاد کرنا ، اور میرور حج ، اُس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس سے زیادہ آسان چیز چاہتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نرمی ( یا سخاوت ) اور صبر ، اُس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس سے بھی زیادہ آسان چیز چاہتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے تمہارے بارے میں جو فیصلہ دیا ہو ، تو تم اُس کے حوالے سے ، اللہ تعالی پر اعتراض نہ کرنا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 201
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 318/5 اورده المؤلف فى زوائد المسند 83»
حدیث نمبر: 202
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَتَصْدِيقٌ ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ ، وَحَجٌّ مَبْرُورٌ " . قَالَ : أَكْثَرْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَلِينُ الْكَلَامِ ، وَبَذْلُ الطَّعَامِ ، وَسَمَاحٌ ، وَحُسْنُ خُلُقٍ " . قَالَ الرَّجُلُ : أُرِيدُ كَلِمَةً وَاحِدَةً . قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اذْهَبْ لَا تَتَّهِمِ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - عَلَى نَفْسِكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ رِشْدِينُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا : کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی پر ایمان رکھنا اور اس کی تصدیق کرنا ، اس کی راہ میں جہاد کرنا ، اور مبرور حج ، اُس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیادہ باتیں بتا دی ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نرم گفتگو کرنا ، کھانا کھلانا ، نرمی کرنا اور اچھے اخلاق ، اس شخص نے کہا: میں صرف ایک بات چاہتا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” تم جاؤ ! اور اپنی ذات کے حوالے سے ، اللہ تعالیٰ پر کوئی اعتراض نہ کرنا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی رشدین ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 202
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى زوائد المسند 84»
حدیث نمبر: 203
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَيُّ الْأَدْيَانِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْحَنِيفِيَّةُ السَّمْحَةُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ وَلَمْ يُصَرِّحْ بِالسَّمَاعِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی : اللہ تعالی کے نزدیک کون سا دین سب سے زیادہ پسندیدہ ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سیدھے راستے پر قائم سہولت والا ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور منجم اوسط میں ، اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، جو تدلیس کرنے والا ہے ، اور اُس نے سماع کی صراحت نہیں کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 203
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 236/1 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 11572 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الأوسط 794 أورده المؤلف فى زوائد المسند 186 أورده المؤلف فى كشف الاستار 78»
حدیث نمبر: 204
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ أَفْضَلَ الْإِيمَانِ أَنْ تَعْلَمَ أَنَّ اللَّهَ مَعَكَ حَيْثُمَا كُنْتَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَقَالَ : تَفَرَّدَ بِهِ عُثْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ . قُلْتُ : وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ بِثِقَةٍ وَلَا جَرْحٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” سب سے زیادہ فضیلت والا ایمان یہ ہے کہ تم اس بات کا علم ( یعنی یقین ) رکھو ! کہ تم جہاں کہیں بھی ہو ، اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہے “” “” ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : عثمان بن کثیر اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی شخص کو اس کا تذکرہ توثیق یا جرح کے ہمراہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 204
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 8796»
حدیث نمبر: 205
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَى اللَّهِ الْحَنِيفِيَّةُ السَّمْحَةُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغِفَارِيُّ ، مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ دین وہ ہے جو سیدھے راستے پر قائم سہولت والا ہو“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ، عبداللہ بن ابراہیم غفاری ہے ، جو ” منکر الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 205
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الأوسط 7351»
حدیث نمبر: 206
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِيهِ - أَحْسَبُهُ قَدْ ذَكَرَ جَدَّهُ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ : أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " الْحَنِيفِيَّةُ السَّمْحَةُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانَ ، كَذَّابٌ وَضَّاعٌ . ¤
محمد محی الدین
عمر بن عبدالعزیز ، اپنے والد کے حوالے سے نقل کرتے ہیں : راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ، انہوں نے اپنے دادا کا ذکر بھی کیا تھا ( وہ بیان کرتے ہیں : ) ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا : کون سا اسلام زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : وہ ہے جو سیدھے راستے پر قائم سہولت والا ہو ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن ابان ہے ، جو کذاب اور جھوٹی روایات ایجاد کرنے والا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 206
درجۂ حدیث محدثین: إسناده موضوع۔
تخریج حدیث «أورده المؤلف فى كشف الاستار 77»
حدیث نمبر: 207
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَشْرَفُ الْإِيمَانِ أَنْ يَأْمَنَكَ النَّاسُ ، وَأَشْرَفُ الْإِسْلَامِ أَنْ يَسْلَمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِكَ وَيَدِكَ ، وَأَشْرَفُ الْهِجْرَةِ أَنْ تَهْجُرَ السَّيِّئَاتِ ، وَأَشْرَفُ الْجِهَادِ أَنْ تُقْتَلَ وَتُعْقَرَ فَرَسُكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَقَالَ : تَفَرَّدَ بِهِ مُنَبِّهٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سب سے زیادہ شرف والا ایمان یہ ہے : کہ لوگ تم سے محفوظ رہیں ، اور سب سے زیادہ شرف والا اسلام یہ ہے : کہ لوگ تمہاری زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہیں ، اور سب سے زیادہ شرف والی ہجرت یہ ہے : کہ تم برائیوں سے لاتعلق ہو جاؤ ، اور سب سے زیادہ شرف والا جہاد یہ ہے : کہ تمہیں قتل کر دیا جائے اور تمہارے گھوڑے کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں : منبہ نامی رادی اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 207
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الإمام الطبراني فى معجمه الصغير 12/113»
حدیث نمبر: 208
وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خَيْرُ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَقَالَ : تَفَرَّدَ بِهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَزِيدَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تمہارے دین ( یعنی اعمال ) میں سب سے بہتر وہ ہے ، جو سب سے زیادہ آسان ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : اسماعیل بن یزید اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 208
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الصغير 107/2»
حدیث نمبر: 209
وَعَنْ أَبِي مُوسَى - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ سُئِلَ : أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ " . قِيلَ : فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ ، وَأُهْرِيقَ دَمُهُ " . قِيلَ : فَأَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " طُولُ الْقُنُوتِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ نَحْوِ هَذَا فِي فَضْلِ الْجِهَادِ وَفَضْلِ الْحَجِّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا : کون سا اسلام زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص کی زبان اور ہاتھ سے لوگ محفوظ رہیں ، عرض کی گئی : کون سا جہاد زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس میں آدمی کے گھوڑے کے پاؤں کاٹ دیے جائیں ، اور آدمی کا خون بہا دیا جائے ، عرض کی گئی کون سی نماز زیادہ فضیلت رکھتی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : طویل قیام والی “ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی دیگر احادیث آگے چل کر ، جہاد کی فضیلت اور حج کی فضیلت سے متعلق ابواب میں آئیں گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 209
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
حدیث نمبر: 210
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ تَبِعَكَ عَلَى هَذَا الْأَمْرِ ؟ قَالَ : " حُرٌّ وَعَبْدٌ . " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الْإِسْلَامُ ؟ قَالَ : " طِيبُ الْكَلَامِ ، وَإِطْعَامُ الطَّعَامِ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا الْإِيمَانُ ؟ قَالَ : " الصَّبْرُ وَالسَّمَاحَةُ " . قُلْتُ : فَأَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ " . قُلْتُ : فَأَيُّ الْإِيمَانِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " خُلُقٌ حَسَنٌ " . قُلْتُ : أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " طُولُ الْقُنُوتِ " . قُلْتُ : فَأَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " أَنْ تَهْجُرَ السُّوءَ " . قُلْتُ : فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ ، وَأُهُرِيقَ دَمُهُ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ : " مَنْ تَبِعَكَ عَلَى هَذَا الْأَمْرِ ؟ " قَالَ : " حُرٌّ وَعَبْدٌ " . وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ : " أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ ؟ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے دریافت کیا : اس معاملے ( یعنی دین ) کے بارے میں آپ کی پیروی کرنے والا کون ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک آزاد شخص اور ایک غلام ، میں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ اسلام سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پاکیزہ گفتگو کرنا اور کھانا کھلانا ، میں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! ایمان سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : صبر اور نرمی ( یا سخاوت ) میں نے دریافت کیا : کون سا اسلام افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ ہوں ، میں نے دریافت کیا : کون سا ایمان افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اچھے اخلاق ، میں نے دریافت کیا : کون سی نماز افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : طویل قیام والی ، میں نے دریافت کیا : کون سی ہجرت افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ کہ تم برائی سے لاتعلق ہو جاؤ ، میں نے دریافت کیا : کون سا جہاد افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس میں آدمی کے گھوڑے کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں اور اُس ( یعنی آدمی ) کا خون بہا دیا جائے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس ( روایت ) کا یہ حصہ مذکور ہے : ” اس معاملے ( یعنی دین ) کے بارے میں آپ کی پیروی کرنے والا کون ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک آزاد شخص اور ایک غلام “ ۔
امام ابن ماجہ نے اس روایت کا یہ حصہ نقل کیا ہے : ” کون سا جہاد افضل ہے ؟ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 210
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
حدیث نمبر: 211
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ أَفْضَلِ الْإِيمَانِ . قَالَ : " أَنْ تُحِبَّ لِلَّهِ ، وَتُبْغِضَ لَهُ ، وَتُعْمِلَ لِسَانَكَ فِي ذِكْرِ اللَّهِ " . قَالَ : وَمَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَأَنْ تُحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ ، وَتَكْرَهُ لَهُمْ مَا تَكْرَهُ لِنَفْسِكَ ، وَأَنْ تَقُولَ خَيْرًا أَوْ تَصْمُتَ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ بَعْضَهُ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ ابْنُ لَهِيعَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل ایمان کے بارے میں سوال کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( اس سے مراد ہے ) کہ تم ( کسی کے ساتھ ) اللہ تعالیٰ کے لئے محبت رکھو اور اُس کے لیے بغض رکھو ! اور اپنی زبان کو اللہ تعالیٰ کی یاد والا عمل کرواؤ ! اُنہوں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ یہ کیسے ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( اس سے مراد یہ ہے : ) کہ تم لوگوں کے لیے اس چیز کو پسند کرو جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو اور ان کے لیے وہی چیز ناپسند کرو جو تم اپنے لیے ناپسند کرتے ہو ، اور تم بھلائی کی بات کہو ! ورنہ خاموش رہو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس روایت کا کچھ حصہ اس سیاق کے بغیر نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 211
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 247/5 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 191/20»