مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ : أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ ، وَأَيُّ الدِّينِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ ؟ . باب: کون ساعمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟ اور کون سا دین اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے؟
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ - رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ - أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " إِيمَانٌ بِاللَّهِ ، وَتَصْدِيقٌ بِهِ ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ ، وَحَجٌّ مَبْرُورٌ " . قَالَ : أُرِيدُ أَهْوَنَ مِنْ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " السَّمَاحَةُ وَالصَّبْرُ " قَالَ : أُرِيدُ أَهْوَنَ مِنْ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " لَا تَتَّهِمِ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فِي شَيْءٍ قَضَى لَكَ بِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ ابْنُ لَهِيعَةَ . ¤سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اُس نے دریافت کیا : اے اللہ کے نبی ! کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی پر ایمان رکھنا ، اُس کی تصدیق کرنا ، اُس کی راہ میں جہاد کرنا ، اور میرور حج ، اُس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس سے زیادہ آسان چیز چاہتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نرمی ( یا سخاوت ) اور صبر ، اُس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس سے بھی زیادہ آسان چیز چاہتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے تمہارے بارے میں جو فیصلہ دیا ہو ، تو تم اُس کے حوالے سے ، اللہ تعالی پر اعتراض نہ کرنا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔