مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ : أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ ، وَأَيُّ الدِّينِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ ؟ . باب: کون ساعمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟ اور کون سا دین اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے؟
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ سَمِعَ الْقَوْمَ وَهُمْ يَقُولُونَ : أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِيمَانٌ بِاللَّهِ ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَحَجٌّ مَبْرُورٌ " ، ثُمَّ سَمِعَ نِدَاءً فِي الْوَادِي يَقُولُ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَأَنَا أَشْهَدُ وَأَشْهَدُ أَلَّا يَشْهَدَ بِهَا أَحَدٌ إِلَّا بَرِئَ مِنَ الشِّرْكِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ مُوَثَّقُونَ . ¤سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتے ہوئے جا رہے تھے کہ اسی دوران آپ نے کچھ لوگوں کو سنا ، جو یہ کہہ رہے تھے : یا رسول اللہ ! کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی پر ایمان رکھنا ، اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور مبرور حج ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی میں کسی شخص کو بلند آواز میں یہ کہتے ہوئے سنا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ جو شخص اس کلمے کے حوالے سے گواہی دے گا ، وہ شرک سے لاتعلق ہو جائے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور امام أحمد کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔