حدیث نمبر: 202
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَتَصْدِيقٌ ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ ، وَحَجٌّ مَبْرُورٌ " . قَالَ : أَكْثَرْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَلِينُ الْكَلَامِ ، وَبَذْلُ الطَّعَامِ ، وَسَمَاحٌ ، وَحُسْنُ خُلُقٍ " . قَالَ الرَّجُلُ : أُرِيدُ كَلِمَةً وَاحِدَةً . قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اذْهَبْ لَا تَتَّهِمِ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - عَلَى نَفْسِكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ رِشْدِينُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا : کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی پر ایمان رکھنا اور اس کی تصدیق کرنا ، اس کی راہ میں جہاد کرنا ، اور مبرور حج ، اُس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیادہ باتیں بتا دی ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نرم گفتگو کرنا ، کھانا کھلانا ، نرمی کرنا اور اچھے اخلاق ، اس شخص نے کہا: میں صرف ایک بات چاہتا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” تم جاؤ ! اور اپنی ذات کے حوالے سے ، اللہ تعالیٰ پر کوئی اعتراض نہ کرنا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی رشدین ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 202
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى زوائد المسند 84»