حدیث نمبر: 199
عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الْإِسْلَامُ ؟ قَالَ : " أَنْ يُسْلِمَ قَلْبُكَ ، وَأَنْ يَسْلَمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِكَ وَيَدِكَ " . قَالَ : فَأَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " الْإِيمَانُ " . قَالَ : وَمَا الْإِيمَانُ ؟ قَالَ : " أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ " . قَالَ : فَأَيُّ الْإِيمَانِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " الْهِجْرَةُ " . قَالَ : مَا الْهِجْرَةُ ؟ قَالَ : " أَنْ تَهْجُرَ السُّوءَ " . قَالَ : فَأَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " الْجِهَادُ " . قَالَ : وَمَا الْجِهَادُ ؟ قَالَ : " أَنْ تُقَاتِلَ الْكُفَّارَ إِذَا لَقِيتَهُمْ " . قَالَ : فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ ، وَأُهْرِيقَ دَمُهُ " . ¤ قُلْتُ : وَهُوَ يَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي فَضْلِ الْحَجِّ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اسلام سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ کہ تمہارا دل فرمانبردار ہو ، اور تمہاری زبان اور ہاتھ سے ( دوسرے ) مسلمان محفوظ ہوں ، اس شخص نے دریافت کیا : کون سا اسلام زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایمان ، اُس نے دریافت کیا : ایمان سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ کہ تم اللہ تعالیٰ اس کے فرشتوں ، اُس کی کتابوں ، اُس کے رسولوں ، اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے پر ایمان رکھو ! اس شخص نے دریافت کیا : کون سا ایمان زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہجرت ، اُس نے دریافت کیا : ہجرت سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ کہ تم برائی سے لاتعلق ہو جاؤ ! اُس نے دریافت کیا : کہ کون سی ہجرت زیادہ فضیلت رکھتی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جہاد ، اُس نے دریافت کیا : جہاد سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ جب تمہارا کفار سے سامنا ہو ، تو تم اُن کے ساتھ جنگ کرو ! اُس نے دریافت کیا : کون سا جہاد زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس میں گھوڑے کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں اور آدمی کا خون بہا دیا جائے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت آگے چل کر ، جج کی فضیلت سے متعلق باب میں ، مکمل روایت کے طور پر آئے گی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے اور اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 199
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 114/4 أورده المؤلف فى زوائد المسند 85»