مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا يُصَلَّى غَيْرُهَا . باب: جب نماز کے لئے اقامت کہی جائے تو کوئی شخص نماز ( باجماعت ) کے علاوہ کوئی اور نماز ادا نہ کرے
وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أُقِيمَتْ صَلَاةُ الصُّبْحِ فَقَامَ رَجُلٌ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ فَجَذَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِثَوْبِهِ وَقَالَ : " أَتُصَلِّي الصُّبْحَ أَرْبَعًا ؟ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ فِي الْإِقَامَةِ وَفِي الْأَوْقَاتِ الَّتِي تُكْرَهُ فِيهَا وَقَوْلِهِ : " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي " ، وَاسْتِئْذَانِ الْمُؤَذِّنِ الْإِمَامَ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : صبح کی نماز کے لئے اقامت کہی گئی ایک شخص کھڑا ہو کر دو رکعات ادا کرنے لگا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کپڑے کو کھینچا اور فرمایا : کیا تم صبح کی نماز میں چار رکعات ادا کرو گے ؟
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس بارے میں احادیث اقامت اور نماز کے مکروہ اوقات ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان : ” جب نماز کے لئے اقامت کہہ دی جائے تو تم لوگ اس وقت تک کھڑے نہ ہو جب تک تم مجھے دیکھ نہیں لیتے “ اور مؤذن کا امام سے اجازت لینا ، سے متعلق باب میں آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔