مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا يُصَلَّى غَيْرُهَا . باب: جب نماز کے لئے اقامت کہی جائے تو کوئی شخص نماز ( باجماعت ) کے علاوہ کوئی اور نماز ادا نہ کرے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الَّتِي أُقِيمَتْ " . ¤ قُلْتُ : لَهُ فِي الصَّحِيحِ : " فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةُ " وَمُقْتَضَى هَذَا أَنَّهُ لَوْ لَمْ يُصَلِّ الظُّهْرَ وَأُقِيمَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ فَلَا يُصَلِّي إِلَّا الْعَصْرَ ; لِأَنَّهُ قَالَ : " فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الَّتِي أُقِيمَتْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب نماز کھڑی ہو جائے تو جو نماز کھڑی ہوئی ہے ، اس کے علاوہ کوئی اور نماز ادا نہیں کی جائے گی“ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں ان صحابی کے حوالے سے یہ الفاظ منقول ہیں : ” فرض نماز کے علاوہ کوئی نماز ادا نہیں کی جائے گی “ ۔ اس بات کا تقاضا یہ ہے کہ اگر اس شخص نے ظہر کی نماز ادا نہیں کی تھی اور عصر کی اقامت کہہ دی گئی ، تو وہ صرف عصر کی نماز ہی ادا کرے گا کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : ” اس وقت جو نماز کھڑی ہوئی ہے ، اس کے علاوہ اور کوئی نماز ادا نہیں کی جائے گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔